پرانے شہر کی غریب عوام حکومت کے چاول اور رقمی مدد سے محروم

   

راشن دکانات پر نو اسٹاک کی نوٹس ، اقلیتی آبادی والے علاقوں کے مکین پریشان حال
حیدرآباد۔13اپریل(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں 15کیلو مفت چاول کی تقسیم کے عمل کو مکمل کئے جانے کے دعوے کے بعد بھی اب تک پرانے شہر کے کئی علاقہ ایسے ہیں جہاں شہریو ںکو چاول موصول نہیں ہوئے ہیں اور پرانے شہر کے کئی علاقوں سے اس بات کی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ انہیں اب تک چاول ملے ہیں اور نہ ہی 1500 روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے لئے سفید راشن کارڈ گیرندوں کو 1500 روپئے نقد اور 15کیلو مفت چاول کی فراہمی کا اعلان کیا تھا اور گذشتہ یوم اس با ت کا اعلان کیا گیا تھا کہ 88 فیصد راشن کارڈ گیرندوں نے مفت چاول حاصل کرلیا ہے لیکن شہر حیدرآباد کے علاقہ کشن باغ ‘ بہادر پورہ‘ تاڑبن ‘ کالا پتھر‘تالاب کٹہ اور نشیمن نگر کے علاوہ کئی علاقوں کے عوام حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ان 15کیلو چاول کے منتظر ہیں جو اعلان کیا گیا ہے۔ اقلیتی غالب آباد والے ان علاقو ںمیں جو لوگ رہتے ہیں ان کی شکایت ہے کہ ان کے راشن کی دکانات پر ابھی تک اسٹاک نہیں پہنچ پایا ہے اور دکاندارو ںکا کہناہے کہ وہ خود انتظار کر رہے ہیں اگر چاول موصول ہوتے ہیں وہ سربراہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔محکمہ سیول سپلائز کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد محکمہ کی جانب سے 3لاکھ ٹن چاول 76لاکھ راشن کارڈ گیرندوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے اور ان 76لاکھ راشن کارڈ گیرندوں کو 17ہزار فئیر پرائس شاپس کے ذریعہ یہ تقسیم عمل میں لائی گئی ہے ۔شہر حیدرآباد کے جن علاقوں میں راشن نہ پہنچنے کی اطلاعات ہیں ان علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے فوری راشن کی سربراہی کے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ بیشتر اقلیتی غالب آبادی والے علاقوں میں راشن نہ پہنچنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ راشن کی دکانات نہ کھلنے کے سبب عوام کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔