عزم مصمم اور صلاحیتیوں کے ذریعہ منزل مقصود کا حصول، نوجوان نسل کیلئے مثال
حیدرآباد۔/22 جون، ( سیاست نیوز) عزم اور ارادہ ہو تو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کیلئے سرحدیں رکاوٹ نہیں بنتی۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اس بات کو ثابت کردیا جس کا آسٹریلیا کے سڈنی سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے تقرر ہوگیا۔ دودھ باؤلی حسینی علم سے تعلق رکھنے والی تحسین کوثر نے اپنی سچی لگن ، عزم و ارادہ سے نوجوان نسل کیلئے ایک مثال قائم کردی اور اس بات کو بھی ثابت کردیا کہ تعلیم کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنا لوہا منوایا جاسکتا ہے۔ ابتدائی تعلیم گریجویشن اور قانون کی تعلیم شہر حیدرآباد سے مکمل کرنے والی تحسین کوثر نے آسٹریلیائی یونیورسٹی سے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی اور اس لڑکی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے سڈنی سپریم کورٹ نے اس لڑکی کو وکیل کی حیثیت سے تقرر کیا ہے۔ حالانکہ تحسین کوثر نے شادی کے بعد آسٹریلیا کا رخ کیا اور اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحسین کا پورا گھرانہ قانون داں ہے، ان کی چھوٹی بہن اور بڑے بھائی شہر کی عدالتو ں میں بحیثیت جج خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی بہن ایم بی بی ایس ایم ڈی ہونے کے ساتھ ساتھ ایل ایل ایم ہیں۔ تحسین کوثر کے والد عبدالرزاق نے قانون میں پی ایچ ڈی مکمل کرلی۔ اپنی دختران کو قانون کی تعلیم دلانے میں عبدالرزاق نے کافی کوششیں کیں اور ان کی ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں حوصلہ دلایا اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالرزاق کی لڑکیوں نے کامیابیوں کی بلندیوں کو چھولیا۔ بیرون ملک ویل سٹیلڈ لڑکے کو اپنے آبائی مقام منتقل کرتے ہوئے انہیں قانون کی تعلیم دلوائی اور آج وہ جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنے بچوں کے ان کارناموں پر عبدالرزاق کاکہنا ہے کہ قوم و ملت کے ہر بچہ کو جدوجہد کرنی چاہیئے اور صحیح سمت اپنے مستقبل کی راہ تلاش کرنی چاہیئے۔ قانون اور سسٹم میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے نوجوان نسل کو آگے آنا ہوگا جس کے ذریعہ قوم و ملت کی حقیقی خدمت کی جاسکتی ہے۔ محکمہ پولیس اور سرکاری محکموں میں اپنے تناسب کو بڑھانے اور انصاف کیلئے نمائندگی کرنے میں نوجوان نسل کو آگے آنا چاہیئے۔ع