پرانے شہر کے اطراف انفارمیشن ٹکنالوجی راہداری کو توسیع دینے کا منصوبہ

   

اسٹارٹ اَپ پروگرام کی تجویز، آئی ٹی شعبہ میں تلنگانہ کی ترقی، اسمبلی میں کے ٹی آر کا بیان

حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں تلنگانہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ تلنگانہ سے انفارمیشن ٹکنالوجی خدمات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے قانون ساز اسمبلی میں ارکان کو تیقن دیا کہ مہیشورم ، شمس آباد اور پرانے شہر سے متصل علاقوں میں انفارمیشن ٹکنالوجی راہداری کو توسیع دی جائے گی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو آئی ٹی شعبہ سے وابستہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کی جائے گی۔ وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے ضمنی سوالات پر کے ٹی آر نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے کئی اداروں نے حیدرآباد میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی ہے۔ جی کشور کمار، کے پی ویویکانند اور دوسروں کے سوال کے جواب میں کے ٹی آر نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ مراکز کے قیام کیلئے یو پی اے اور موجودہ این ڈی اے حکومت نے تلنگانہ کو ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں اسٹارٹ اَپ پروگرام شروع کرنے کیلئے حکومت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کمپنیوں کے قیام کی صورت میں حکومت کی جانب سے رعایتیں دی جارہی ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اکٹوبر میں کریم نگر میں آئی ٹی ٹاور قائم کیا جائے گا۔ کھمم اور محبوب نگر میں بھی آئی ٹی ٹاورس کے قیام کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں تلنگانہ نے 17 فیصد کی ترقی کی ہے جبکہ قومی شرح 8 تا 9 فیصد ہے۔ 2018-19 میں تلنگانہ نے ایک لاکھ 9219 کروڑ آئی ٹی ایکسپورٹ کیا جبکہ یہ 2013-14 میں 57258 کروڑ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی سے مربوط مختلف شعبوں کی حوصلہ افزائی کیلئے علحدہ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ ورنگل ، کریم نگر، کھمم اور نظام آباد میں آئی ٹی ٹاورس کے قیام کی تجویز ہے۔