ادارہ طلبہ کو ٹریننگ فراہم کرنے سے قاصر، کئی سیکشنس غیر کارکرد
حیدرآباد 8 مئی (سیاست نیوز) حکومت کی عدم توجہ اور بے اعتنائی کے باعث پرانے شہر، بہادر پورہ میں واقع انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں جو گورنمنٹ آئی ٹی آئی، اولڈ سٹی کے نام سے مشہور ہے، فیکلٹی کی قلت کے علاوہ انفراسٹرکچر اور انسٹرومینٹس کا فقدان ہے جس کی وجہ نوجوانوں کو ٹریننگ دینا محال ہوگیا ہے۔ اس طرح اس کا مقصد ہی پورا نہیں ہوپارہا ہے۔ دونوں اضلاع حیدرآباد اور رنگاریڈی کے طلبہ کو انڈسٹرئیل ٹریننگ فراہم کرنے والا یہ واحد انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس میں 12 ٹریڈس ہیں اور ٹریننگ حاصل کرنے والوں کو صنعت کی ضرورت کے لحاظ سے ٹریننگ دی جاتی ہے اور ان میں ٹریڈ کی مہارت پیدا کی جاتی ہے تاکہ انھیں روزگار حاصل ہو۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ 12 ٹریڈس میں صرف چند ٹریڈس ہی کارکرد ہیں اور وہ بھی ان میں دستیاب نشستوں کی تعداد کے مقابل نصف تعداد کے ساتھ۔ حالانکہ ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالانکہ اس انسٹی ٹیوٹ میں 456 نشستوں کی گنجائش ہے لیکن صرف 221 ٹرینیز ہی مختلف ٹریڈس میں ٹریننگ حاصل کررہے ہیں۔ 36 فیکلٹی ممبرس کی ضرورت ہے لیکن صرف 19 انسٹرکٹرس ہی ہیں بشمول اسسٹنٹ ٹریننگ آفیسرس، ڈپٹی ٹریننگ آفیسرس اور ٹریننگ آفیسرس۔ انھوں نے کہاکہ زیادہ تر ٹریڈس مناسب انفراسٹرکچر اور پراکٹیکل سیشنس کے لئے خام میٹرئیل کے فقدان کے باعث ناکارہ یا غیر کارکرد ہوگئے ہیں جس کی وجہ کلاسیس بند ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ڈرافٹسمین سیول سیکشن میں جس میں 20 ٹرینیز نے انرولمنٹ کروایا ہے، فرنیچر کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اسی طرح میکانیکل ریفریجریشن اور ایرکنڈیشن سیکشن میں حالانکہ درکار میٹرئیل ہے لیکن اس کا کوئی استعمال نہیں ہورہا ہے۔ مشینسٹ، ٹرنر، میکانیکل موٹر وہیکل، پلمبر اور ویلڈر سیکشنس کی حالت تو بہت خراب ہے جو یا تو کچرے کا مقام بن گئے ہیں یا ناکارہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ فٹر، ڈیزل میکانک اور الیکٹرانک میکانک سیکشنس کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ہے جہاں مشینیں یا تو غیر مروجہ ہوگئے ہیں یا ان کا صحیح استعمال نہیں ہورہا ہے۔ میکانیکل ریڈیو اینڈ ٹی وی سیکشن میں کوئی بیاچس نہیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیونگ ٹیکنالوجی سیکشن، جسے دراصل نوجوان خواتین کو ٹریننگ دینے کے لئے قائم کیا گیا تھا، کی حالت یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ کس حد تک ناکارہ ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس سیکشن میں 40 لوگوں کو ٹریننگ فراہم کرنے کی گنجائش ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس میں ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے کوئی اِدھر کا رُخ نہیں کررہا ہے۔ ان باتوں کے علاوہ یہاں اس انسٹی ٹیوٹ کے پاس کچرے کا انبار ہوگیا ہے جہاں اطراف میں رہنے والے لوگ ہر روز کچرا لاکر ڈالتے ہیں۔