پرانے شہر کے گنجان آبادیوں میں کرفیو کا کوئی اثر نہیں

   

گاڑیوں پر کرتب بازی ، ہوٹلیں ، پان شاپس کھلے ، وائیرس پھیلنے کا اندیشہ
حیدرآباد۔ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں رات کے کرفیو کے دوران بھی محکمہ پولیس کی جانب سے کسی قسم کی سختی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو بھرپور آزادی فراہم کی جا رہی ہے جس کے سبب ان گنجان آبادی والے علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کیونکہ محکمہ پولیس کی جانب سے دی جانے والی آزادی کے سبب نوجوان رات کے اوقات میں گاڑیوں پر کرتب بازی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور ریاست نگر‘ حافظ بابا نگر کے علاوہ اسی طرح کی گنجان آبادیو ںمیں رات کے اوقات میں بھی ہوٹلیں اور پان شاپس کھلے رہنے لگے ہیں اور عام طور پر جس طرح رات بھر کے دوران سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اسی طرح سرگرمیاں جاری ہیں ۔عہدیداروں سے شکایت کرنے والوں کو عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ ہجوم کی شکل میں موجود نوجوانوں میں کون متاثر ہے اور کون کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہے کوئی نہیں بتاسکتا اسی لئے پولیس اہلکار ایسے علاقوں کو نظر انداز کرنے لگے ہیں جہاںبار بار ہجوم کے درمیان پہنچنا پڑرہا ہے کیونکہ اگر ہجوم میں کوئی متاثر ہے تو وہ پولیس اہلکاروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی لئے گنجان آبادی والے علاقو ںمیں شہریوں کی من مانی کے باوجود بھی محکمہ پولیس کی جانب سے خاموشی اختیار کی جانے لگی ہے ۔