پردیش کانگریس کی صدارت پر کمزور طبقات کے قائد کو فائز کیا جائے

   

ہنمنت راؤ کا مطالبہ ، سونیا گاندھی کو مکتوب کی روانگی
حیدرآباد: سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے قائد کو مقرر کرنے کی اپیل کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ جنرل سکریٹری انچارج مانکیم ٹیگور کے علاوہ اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو اور سرینواسن کرشنن سے ملاقات کے دوران انہوں نے تلنگانہ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر کمزور طبقات کو ترجیح دینے کی خواہش کی ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر کمزور طبقات کے علاوہ کسی اور طبقہ کے قائد کو صدارت دی جائے تو ان کا تعلق حقیقی کانگریس سے ہونا چاہئے ۔ دوسری پارٹیوں سے شامل ہونے والے قائدین کو صدارت دیئے جانے کی صورت میں پارٹی میں پھوٹ کا امکان ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں دیگر پارٹیوں سے شامل ہونے والے قائدین خود کو حقیقی کانگریس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وجئے شانتی پر پارٹی نے بھروسہ کیا تھا لیکن وہ بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ اس کے علاوہ 12 ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑ کر ٹی آر ایس میں چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں او بی سی 54 فیصد ، ایس سی ایس ٹی 23 فیصد اور اقلیتیں 17 فیصد ہیں۔کمزور طبقات کی مجموعی آبادی 87 فیصد ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ طبقات کے بجائے کمزور طبقات کو نمائندگی دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سیکولر پارٹی ہے ، لہذا کانگریس کے حقیقی کارکن اور سیکولر نظریات کے حامل قائد کو پردیش کانگریس کی صدارت پر فائز کیا جائے۔ ریونت ریڈی کا نام لئے بغیر ہنمنت راؤ نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں پارٹی قیادت کے خلاف دیئے گئے بیانات سے ہائی کمان کو واقف کرایا گیا ہے ۔ ہنمنت راؤ نے پارٹی کے 23 ناراض قائدین سے سونیا گاندھی کی ملاقات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ راہول گاندھی کو پارٹی کی صدارت قبول کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ناراض قومی قائدین کی طرح تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو ملاقات کا موقع دیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ خود پردیش کانگریس کی صدارت کی دوڑ میں شامل ہیں اور وہ خود کو اس عہدہ کا اہل تصور کرتے ہیں۔