پرشانت کشور کو عدالت سے عبوری راحت نہیں ملی

   

پٹنہ۔3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پٹنہ کی ایک عدالت نے جعلسازی کے معاملے میں آج انتخابی پالیسی ساز اور جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو) کے سابق قومی نائب صدر پرشانت کشور کو کسی طرح کی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا ۔ کشور کی جانب سے کل دائر کی گئی پیشگی ضمانت عرضی پر آج ضلع اور سیشن جج رودر پرکاش مشرا نے انہیں عبوری راحت دینے کی ان کے وکیل کی درخواست کو نامنظور کر دیا ۔ کشور کے وکیل نے عدالت میں درخواست کی تھی کہ جب تک پیشگی ضمانت عرضی پر فیصلہ نہیں آجاتاہے تب تک ان کے موکل کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی جائے ۔جسٹس مشرا نے اس کے ساتھ ہی اس معاملے کو سماعت کیلئے ضلع اور سیشن جج 12 کی عدالت میں منتقل بھی کر دیا ۔ اس معاملے میں اب آئندہ سماعت 7 مارچ کو ہوگی ۔غورطلب ہے کہ پرشانت کشور کے خلاف 27 فروری کو پٹنہ کے پاٹلی پتر تھانہ میں موتیہاری کے رہنے والے شاشوت گوتم نے جعلسازی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی ۔ گوتم نے ان پر اپنی مہم ( بات بہار کی ) کے مواد کی نقل کرنے کاالزام لگایا ہے ۔ ایف آئی آر میں ایک دیگر نوجوان اسامہ کا بھی نام ہے ۔ اسامہ پٹنہ یونیورسیٹی میں طلبائیونین سکریٹری کا انتخاب لڑ چکا ہے ۔ گوتم کا الزام ہے کہ بہار کی بات کے نام سے انہوں نے ایک پروجیکٹ بنایا تھا جسے مستقبل میں لانچ کرنے کی بات چل رہی تھی ۔ اسی درمیان ان کے یہاں کام کرنے والے اسامہ نے استعفیٰ دے دیا اور اس نے سارا مواد کشور کے حوالے کردیا ۔ اس کے بعد کشور نے ان سارے مواد کو اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے ۔