پرگتی بھون کے ملازم کی تلنگانہ وقف بورڈ میں مداخلت

   


بورڈ کی کارکردگی ٹھپ، درگاہوں کے ٹنڈرس پر دباؤ، ہراج میں رکاوٹ، غلطی کے مرتکب عہدیداروں کیخلاف کارروائی ندارد
حیدرآباد۔28 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں ہونے والی دھاندلیوں کے تار ’’پرگتی بھون ‘‘ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت میں شامل ذمہ دار سے زیادہ پرگتی بھون میں خدمات انجام دینے والے ملازم اوقافی امور میں مداخلت کررہے ہیں۔وقف بورڈ کے امور میں پرگتی بھون کے اٹنڈرس کی من مانی مداخلت وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے اور اعلیٰ عہدیداروں کو پرگتی بھون کے فون نمبرات سے فون کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کے نام استعمال کئے جا رہے ہیں اور ان کے نامو ں کی دھونس کے ذریعہ اپنے معاملات کی پیروی کروائی جانے لگی ہے۔ بورڈ کے امور میں حکومت کی جانب سے کوئی راست مداخلت نہیں کی جا رہی ہے لیکن ’’پرگتی بھون‘‘ میں اٹنڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بعض ملازمین ریاستی حکومت کی بدنامی کا سبب بننے لگے ہیں کیونکہ ریاستی وقف بورڈ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد’’پرگتی بھون‘‘ کے عملہ سے اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بورڈ میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ پرگتی بھون سے کوئی بھی احکام جاری کروانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد حالات میں تبدیلی کی توقع کی جا رہی تھی لیکن بورڈ کی تشکیل کے 4ماہ گذرنے کے باوجود بورڈ کی کارکردگی میں کوئی نمایاں تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے لیکن حج ہاؤزسے پرگتی بھون تک پیروکار ی کی صلاحیت رکھنے والوں کی جانب سے اپنے معاملات کی یکسوئی اور بورڈ میں زیر التواء کاموں کی انجام دہی کے لئے اپنے رسوخ کا استعمال کرنے والوں کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے ریاست میں موجود درگاہوں کے امور کے ہراج کے معاملات میں اپنے رسوخات کا استعمال کروانے والوں کی جانب سے کی جانے والی مداخلت وقف بورڈ کی آمدنی میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔گذشتہ ماہ وقف بورڈ نے سوریہ پیٹ ضلع سابقہ ضلع نلگنڈہ کے موضع ارواپلی میں واقع درگاہ حضرت نصیر الدین باباؒ کے امور کے ہراج کے بجائے سابقہ گتہ دار کو ہی ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس معاملہ میں معمولی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے اسے بورڈ کے فیصلہ کے ذریعہ توسیع فراہم کردی گئی ۔ اب جبکہ درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے امور کا ہراج کرنے کے لئے اعلامیہ جاری کیاگیا تھا لیکن عین وقت پر ہراج ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا اور کہا جار ہاہے کہ بعض تکنیکی بنیادوں پر اس ہراج کو ملتوی کیا گیا ہے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں سال 2022-23کے لئے جہانگیرپیراںؒ کے امور کے ہراج کے لئے 2کروڑ 80لاکھ کی رقم کا تعین کیا گیا تھا اور توقع تھی کہ اگر ہراج کیا جاتا تو زائد از 3کروڑ تک کی بولیاں لگائی جاتی لیکن وہ لوگ جو حج ہاؤزتا پرگتی بھون براہ تلک روڈ پیروی کرتے ہیں ان کی مداخلت بیجا کے سبب اس ہراج کو ملتوی کردیا گیا اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے موجودہ کنٹراکٹر کو ہی توسیع دینے کے اقدامات کئے جائیں جس طرح سے درگاہ حضرت نصیر الدین بابا ؒ کے معاملہ میں توسیع دی گئی تھی۔وقف بورڈ نے سال گذشتہ محض 1کروڑ 70لاکھ میں یہ ٹھیکہ حوالہ کیا تھا لیکن اب اس درگاہ سے 2کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ رقم حاصل ہونے کا امکان ہے لیکن عہدیداروں اور مفادپرست عناصر اپنے حقیرفائدہ کے لئے ریاستی وقف بورڈ کی آمدنی کا نقصان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔درگاہ حضرت نصیر الدین باباؒ کے ہراج کے اقدامات نہ کئے جانے کے سلسلہ میں استفسار پر عہدیداروں نے بتایا تھا کہ ہراج کے انعقاد کے لئے اعلامیہ کی اجرائی اور دیگر اخراجات جو ہوں گے وہ آمدنی سے زیادہ ہو جائیں گے اسی لئے موجودہ ٹھیکہ دار کو ہی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے توسیع دیئے جانے کی سفارش کی تھی اور اب جبکہ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے ہراج کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی گئی اور تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں تو پھر ایسی کیا وجہ ہوئی کہ اس اہم ترین درگاہ کے ہراج کو عین وقت پر روک دیا گیا !ریاستی وقف بورڈ میں موجود ویجلنس کے علاوہ ریاستی محکمہ انسداد رشوت ستانی اور ویجلنس کے عہدیداروں کو اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے ان لوگوں کا پردہ فاش کرنے کی ضرورت ہے جن لوگوں نے اس ہراج میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے وقف بورڈ کی آمدنی میں ہونے والے اضافہ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور عہدیداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ ان کے لئے ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہیں ہراج ملتوی کرنا پڑا !اگر اعلامیہ میں کوئی غلطی ہوئی تھی تو اس غلطی کے لئے کو ن ذمہ دار ہے اور اس غلطی کے مرتکب کے خلاف کیا کاروائی کی جائے گی !آیاعہدیدار درگاہوں کے امور کے ہراج کی روایت کو عملی طور پرختم کرچکے ہیں!م