خاطیوں کو سزا دلانے فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلانے کا ارادہ ۔ کمشنر پولیس سائبر آباد وی سی سجنار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) خاتون ویٹرنری ڈاکٹر پی پرینکا ریڈی قتل کیس میں ملوث چار خاطیوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ سی سی کیمروں و مقامی افراد کی مدد سے اس واقعہ کے ذمہ داران کی نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔ پولیس کمشنر سائبرآباد مسٹر وی سی سجنار نے پریس کانفرنس میں ڈاکٹر کے قتل کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 28 نومبر کو صبح کی اولین ساعتوں میں شمس آباد پولیس کو ایک خاتون کی گمشدگی کی شکایت موصول ہوئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پی پرینکا ریڈی نے افراد خاندان کو فون پر یہ بتایا تھا کہ وہ شمس آباد ٹول پلازہ پر ہے اور اس کی اسکوٹی پنکچر ہوگئی ہے اور اس کی مدد کیلئے پہنچنے والے افراد مشتبہ ہیں اور وہ خوفزدہ ہے۔ پرینکا کے والد نے بیٹی کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا موبائیل فون کا بند ہوگیا ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ اس کیس کے چار ملزمین ہیں اور ان کی نشاندہی 26 سالہ محمد عرف عارف جو پیشہ سے لاری ڈرائیور ہے اور اس کے تین ساتھی 20 سالہ جے شیوا، 20سالہ جے نوین اور 20 سالہ چنتا کنٹہ چنا کیشولو متوطن مکتھل منڈل نارائن پیٹ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کا ایک منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 27 نومبر شام 6 بجے عارف اور ساتھیوں نے لاری میں شراب نوشی کے دوران ڈاکٹر پرینکا کو ٹول پلازا کے قریب گاڑی پارک کرتے دیکھا اور انہیں یقین تھا کہ وہ دوبارہ گاڑی لینے واپس آئیگی۔ قتل کیس کے ملزم جے نوین نے اسکوٹی موٹر سیکل کے عقبی ٹائر کی ہوا نکال دی اور پرینکا واپس لوٹنے پر ملزمین نے گاڑی پنکچر ہونے کی اطلاع دی۔ کلیدی ملزم عارف نے پرینکا سے کہا کہ وہ اس کی گاڑی کے ٹائر کا پنکچر درست کرنے میں مدد کرسکتا ہے ۔ پنکچر کی درستگی کے بہانے شیوا گاڑی لے گیا اور کچھ ہی دیر میں پنکچر کی دکان بند ہونے کی اطلاع دی۔ چاروں ملزمین نے جبراً ویٹرنری ڈاکٹر کو ایک سنسان مقام منتقل کیا جہاں پر اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی جس کے بعد عارف نے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا
اور بعد ازاں اس کی نعش کو لاری کے کیبن میں ڈال دیا جبکہ مقتولہ کی اسکوٹی موٹر سیکل کو ملزمین نے کتور منتقل کیا اور وہا پٹرول پمپ سے پٹرول خریدنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہونے پر لاری کا ڈیزل نکالا اور قومی شاہراہ 44 کے انڈر پاس پر پرینکا ریڈی کی بلانکٹ میں لپٹی ہوئی نعش کو نذر آتش کردیا اور نعش مکمل جل جانے کا یقین ہونے کے بعد ملزمین آرام گڑھ چوراہا پہنچے اورعارف نے لاری کا لوڈ خالی کرنے حیدرآباد روانہ ہوا۔ مسٹر سجنار نے کہا کہ پرینکا ریڈی کا منصوبہ بند طور پر قتل کیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں اور مقامی ذرائع کی مدد سے ان کی گرفتاری ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرینکا ریڈی کے قتل کے فوری بعد ڈی سی پی شمس آباد این پرکاش ریڈی نے خاطیوں کی تلاش کیلئے 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھی۔ مسٹر سجنار نے کہا کہ خاطیوں کو سزا دلانے فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلایا جائیگا۔ انہوں نے اس کیس میں پولیس کی جانب سے لاپرواہی کے الزامات پر کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں اور بعد تحقیقات مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام بالخصوص خواتین کو مشورہ دیا کہ کسی بھی وقت کسی مشکل یا ناگہانی صورت میں وہ پولیس کے ڈائیل 100 پر رابطہ پیدا کریں تاکہ ان کی بروقت مدد کی جاسکے۔