وینکٹ پارسا
کانگریس کو یوپی میں اقتدار پر واپس لانے ایڑی چوٹی کا زور
کانگریس کی حرکیاتی قائد پرینکا گاندھی 12 جنوری 2022ء کو اپنی 50 ویں سالگرہ منارہی ہیں۔ حسن اتفاق سے ان کی سالگرہ ایسے وقت آئی ہے جبکہ یوپی کے بشمول پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ جہاں تک پرینکا گاندھی کا سوال ہے، وہ بڑی خاموشی سے سیاسی منظر عام پر آئیں اور ان میں اپنی دادی آنجہانی اندرا گاندھی کی کئی خوبیوں کو دیکھا گیا۔ حالیہ عرصہ کے دوران اترپردیش میں جو بھی سیاسی واقعات رونما ہوئے یا ذات پات یا مذہب کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی یا پھر احتجاجی کسانوں کو گاڑیوں تلے روندا گیا ان تمام واقعات کا سب سے پہلے پرینکا گاندھی نے نوٹ لیا اور مظلوموں، کمزوروں اور ذات پات کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکیوں اور خواتین کی مدد کیلئے آواز اٹھائی۔ فی الوقت اترپردیش میں انہوں نے لڑکیوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے ’’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘‘ جیسا نعرہ دیا۔ اس نعرہ نے خواتین میں پرینکا گاندھی کی مقبولیت بڑھا دی ہے۔ اترپردیش میں کانگریس ایسا لگ رہا تھا کہ ایک بے جان پارٹی بن کر رہ گئی ہے، لیکن پرینکا گاندھی نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عوام بالخصوص خواتین سے قربت اختیار کرتے ہوئے کانگریس کو بی جے پی کی اصل اپوزیشن کے طور پر ابھارا۔ انہوں نے ہر عوامی مسئلہ پر چیف منسٹر یوپی یوگی ادتیہ ناتھ کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کو گھیرا اور ہندی بولنے والی اس ریاست میں ہلچل پیدا کردی۔ یوپی میں اسمبلی انتخابات ایک ایسے وقت ہورہے ہیں جبکہ کووڈ کیسیس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے چنانچہ انہوں نے اپنی بڑی بڑی ریالیاں ملتوی کردی ہیں۔ اسی طرح ٹاؤن ہال، سمواد اور میراتھن بھی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، ورنہ وہ زمینی طور پر زبردست اثر ڈال سکتی تھیں۔
جہاں تک اترپردیش کا تعلق ہے، دراصل ریاست ایک سیاسی تبدیلی کا مشاہدہ کررہی ہے اور پرینکا گاندھی اس تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے جو ساری ریاست میں وقوع ہورہی ہے۔ پرینکا ریاست کے جس مقام پر بھی جاتی ہیں، عوام کا ایک جم غفیر امڈ پڑتا ہے اور ان کے حق میں نعرہ بلند کرتے دکھائی دیتا ہے۔ پرینکا نے ’’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘‘ نعرہ کے ذریعہ اترپردیش میں خواتین کی حالت زار پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایسی ریاست ہے جہاں تین دہوں سے کانگریس کمزور پڑگئی ہے اور اسے جو عوامی تائید حاصل تھی، وہ بکھر گئی جبکہ ریاست میں کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی کمزور ہوگیا۔ ان حالات میں یکا و تنہا پرینکا گاندھی نے پارٹی کے حالات کو سدھارنے اور اسے ایک طاقتور پارٹی بنانے کے کام کو چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ آج پرینکا گاندھی کانگریس میں ایک توانائی پیدا کررہی ہیں اور انہوں نے ریاست میں سیاست کا ایک ایسا نیا برانڈ لایا ہے جو بالکل نیا ہے۔ اس برانڈ کو ریاست میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ نفرت نہیں، کسی کے خلاف زہر نہیں۔ پرینکا ترقیاتی ایجنڈہ کی بنیاد پر کانگریس کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ لڑکیوں اور خواتین میں گھل مل جاتی ہیں اور ایک ایسی ریاست میں جو مندر اور منڈل جیسے مسئلوں پر بٹ چکی ہے، ترقی کے مسئلہ کو سیاسی شہ نشین پر دوبارہ واپس لائی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ان حلقوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں جنہیں مختلف سیاسی جماعتوں نے بڑے پیمانے پر نظرانداز کیا۔ ساتھ ہی وہ صنف نازک یعنی خواتین و لڑکیوں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کو بھی اترپردیش کی سیاسی جماعتوں نے بری طرح نظرانداز کردیا ہے۔ خواتین میں پرینکا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس وقت لکھیم پور کھیری اور دوسرے ناپسندیدہ واقعات کے دوران پرینکا گاندھی کی گرفتاری کیلئے جن خاتون پولیس عہدیداروں کو روانہ کیا گیا، ان خاتون پولیس عہدیداروں نے بڑے جوش و خروش سے پرینکا کے ساتھ سیلفی لیں۔ نئی دہلی کے 24 اکبر روڈ پر واقع اے آئی سی سی ہیڈکوارٹرس پر جب کانگریس کا یوم تاسیس منایا گیا، تب سیوا دل خاتون والینٹرس پرینکا کے قریب پہنچ گئیں اور ان کے ساتھ تصاویر لیں۔ پرینکا گاندھی نے اپنی گولڈن جوبلی سالگرہ کے موقع پر خود کو ایک مضبوط و مستحکم لیڈر کے طور پر ابھارا ہے۔ اترپردیش میں ایسا لگتا ہے کہ عوام بالخصوص خواتین ، پرینکا گاندھی کی دیانت داری ، ان کی سنجیدگی سے کافی متاثر ہیں۔ ریاست میں پرینکا گاندھی سب سے زیادہ مقبول لیڈر دکھائی دیتی ہیں۔ اندرا گاندھی کے بعد سے یہ پہلی لیڈر ہیں جو خاص طور پر اترپردیش میں مقبول ہوئی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے اپنی سیاسی زندگی میں مکاری سے کام نہیں لیا بلکہ پوری دیانت داری و سنجیدگی کے ساتھ عوامی کاز کیلئے آواز اٹھائی۔ پچھلے تین برسوں سے وہ اترپردیش کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے عوام کے قریب پہنچ کر ان سے ان کے مسائل معلوم کررہی ہیں۔ وہ درج فہرست طبقات و قبائل کی خواتین سے بھی گھل مل جاتی ہیں۔ ان خواتین کے ساتھ کھانا بھی کھاتی ہیں جو اپنے کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتی ہیں، عام لوگوں کے گھروں پر پہنچ جاتی ہیں، ان سے گھل مل جاتی ہیں، ان کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرلیتی ہیں۔ جبکہ سماج وادی پارٹی لیڈر اکھیلیش یادو اور بی ایس پی لیڈر مایاوتی کبھی بھی عام لوگوں سے اس طرح ملاقات کرتے نہیں دیکھے گئے اور نہ ہی وہ لوگ غریب عوام کے ساتھ گھل مل گئے جبکہ اکھیلیش یادو اور مایاوتی پچھلے ساڑھے چار برسوں سے عوام سے دور رہے۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر رہے، لیکن عوامی مسائل اٹھانے کا کریڈٹ پرینکا گاندھی کو جاتا ہے جنہوں نے اے آئی سی سی جنرل سیکریٹری و انچارج اترپردیش کا جائزہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی خواتین، کمزور طبقات، کسانوں، دلتوں، آدی واسیوں اور اقلیتوں کے لئے آواز اٹھانی شروع کردی۔ یہ کوئی سیاسی بیان بازی یا حربہ نہیں تھا بلکہ عوام کی تائید و حمایت میں حقیقی طور پر اٹھائی گئی آواز تھی۔ انہوں نے عوامی مسائل کو اپنے بیانات اور ریالیوں میں تقاریر کے ذریعہ پیش کیا اور لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ اس کے برعکس سماج وادی پارٹی نے ’’آرہے اکھیلیش جی ‘‘ کا نعرہ دیا۔ اس وقت اکھیلیش کہاں تھے جب کسان ، نقل مکانی کرنے والے مزدور ، عصمت ریزی کا شکار لڑکیاں و خواتین، سونبھدرا قتل عام کے متاثرین سب کے سب صدمہ سے دوچار تھے، اکھیلیش یادو کہاں تھے جب اشیائے ضروریہ اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کیا، بیروزگاری اور لا اینڈ آرڈر کی بدترین صورتحال سے عوام پریشان تھے۔ دوسری طرف ان تمام مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے کے بجائے تیسرے محاذ کی جماعتیں بھی ذات پات پر مبنی سیاست کھیل رہی ہیں جوکہ فرقہ پرستی اور مذہب پر مبنی سیاست ہے۔ اب پرینکا گاندھی نے اپنی محنت کے ذریعہ کانگریس کو بی جے پی کے خلاف لڑنے والی اصل اپوزیشن جماعت بنانے میں کامیابی حاصل کی اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ بی ایس پی یعنی اکھیلیش یادداور مایاوتی ان سے پیچھے رہے۔ پرینکا نے ڈاکٹر کفیل خان جیسے مظلوم ڈاکٹر کی غیرمعمولی تائید و حمایت کی اور ان کے خاندان سے مسلسل رابطہ بنائی رکھی ، رہائی کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی راجستھان منتقلی کو یقینی بنایا اور راجستھان میں کانگریس حکومت کے تحت ان کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے کا تیقن دیا۔ کانگریس نے پرینکا گاندھی کے باعث ہی ڈاکٹر کفیل خاں کی گرفتاری کے مسئلہ پر احتجاج کیا۔ اسی طرح نقل مکانی کرنے والے مزدوروں ، زرعی بلز کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں کی اخلاقی مدد میں پرینکا نے کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا۔ اگر دیکھا جائے تو اترپردیش میں پرینکا گاندھی خواتین کو ایک نئی طاقت بنانے کی خواہاں ہیں۔ ہندوستان کی واحد خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی کا تعلق بھی اترپردیش سے ہی تھا۔ پہلی چیف منسٹر سچیتا کرپلانی بھی اترپردیش سے تعلق رکھتی تھی۔ اترپردیش کی پہلی گورنر بھی ایک خاتون سروجنی نائیڈو کو بنایا گیا تھا، لیکن اب اترپردیش میں خواتین کو نظرانداز کردیا گیا، تاہم پرینکا گاندھی نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں 40% ٹکٹس خواتین کو دینے کا اعلان کیا ہے جس سے ان کے سیاسی مخالفین حیران ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اقتدار پر آنے کی صورت میں 20 لاکھ سرکاری ملازمتیں دینے غریب خاندانوں کو سالانہ 25 ہزار روپئے امداد کووڈ کے دوران جتنے بھی برقی بلز آئے ہیں ، انہیں معاف کرنے ، تمام شہریوں کیلئے برقی بلز نصف کردینے ، چاول اور گیہوں کیلئے 2,500 اور نیشکر کیلئے 400 روپئے ایم ایس پی ، کسانوں کے قرض معاف کردینے کے وعدے کئے ہیں۔ پرینکا گاندھی سے امید ہے کہ وہ اترپردیش کی عظمت رفتہ بحال کرے گی۔٭