بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہمی پر زور، کاماریڈی ڈیکلریشن پر عمل کرنے ریاستی حکومت سے مطالبہ
نظام آباد:3؍جنوری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے بی سی مردم شماری سروے کا مرکزی حکومت سے پرُ زور مطالبہ کیا ۔ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اندراپارک پر دھرنا کیا، اس موقع پر بڑے پیمانے پر تلنگانہ جاگروتی کے قائدین ، بی آرایس قائدین نے شرکت کی ۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کے کویتا نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کرنے کا مرکز کی بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا اسی طرح ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاماریڈی میں کانگریس پارٹی نے انتخابات کے موقع پر منشور جاری کیا تھا اور اس منشور میں بی سی طبقہ کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لہذا مقامی ادارہ جات میں 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے بعد ہی مقامی ادارہ جات کے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ۔ کے کویتا نے کہا کہ کرناٹک ، بہار حکومتوں کے تجربات کو نظر میں رکھتے ہوئے ڈیلیکیڈ کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کے کویتا نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے اس بات کا سوال کیا جارہا ہے کہ بی سیز کے بارے میں آواز اٹھائی جارہی ہے ۔ موقع کی نزاکت سے آواز اٹھانا میرا فریضہ ہے ۔ 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا کاماریڈی میں ڈیکلریشن کیا گیا تھا لہذا اس پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ورنہ بی سی طبقہ کی آبادی کے بارے میں واضح کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اعداد و شمارپیش کرنے میں کسی قسم کی ہیرا پھیری نہ کریںکے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی تحریک کے باعث ہی ساوتری بائی پھولے کا جنم دن سرکاری طور پر منایا جارہا ہے ۔ ذات پات سے کے تناسب سے دستور میں تحفظات فراہم کئے گئے ہیں ۔ امبیڈ کر کی کوششوں کے باعث ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو جس طرح فائدے حاصل ہورہے ہیں اسی طرح بی سی طبقہ کو بھی فائدہ حاصل ہونے کیلئے دستور میں تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔اگر دستور میں اس سے قبل ہی تحفظات فراہم کیا جاتا تو ترقی میں امریکہ کو بھی پیچھے کردیا جاسکتا تھا ۔ نہرونے پاکا کلکیر کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کیا تھا اس طرح بی سی طبقات کے ساتھ کانگریس پارٹی نے ناانصافی کی تھی ۔ مرارجی دیسائی نے منڈل کمیشن کو تقرر کیا تھا ۔ منڈل کمیشن کی رپورٹ پر کانگریس پارٹی نے عمل نہیں کیا تھا ۔ وی پی سنگھ حکومت نے اس پر عمل کیا تھا۔ نہرو ، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی کے دور میں بی سیز کے ساتھ نا انصافی کی گئی ۔ 2011 ء میں یو پی اے حکومت مرد م شماری کی رپورٹ کو انکشاف نہیں کیا اس کے بعد آنے والے بی جے پی حکومت نے بھی رپورٹ کا انکشاف نہیں کیا اور بی جے پی نے واضح طور پر ذات پر مبنی مردم شماری نہ کرنے کا اعلان کیا ۔ آزادی کے 75 سال گذرنے کے باوجود بھی پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف نہیں کیاجارہا ہے ۔ ساوتری بائی پھولے خواتین کیلئے مشعل راہ ہے ۔ قبل از کاماریڈی ڈیکلریشن پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ۔ اس پروگرام میں شہر کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے بی سی قائدین بڑے پیمانے پر شرکت کی۔