پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ وزیراعظم اگر پسماندہ (پچھڑے و دلت ) مسلمانوں کی بہبود کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ،تو پیس پارٹی اس کا خیرمقدم کرتی ہے ،اور پیس پارٹی کو اعتماد ہے کہ وزیراعظم منڈل کمیشن ،کیلکر کمیشن ،رنگناتھ مشرا کمیشن و سچّر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کر انہیں سیاسی حصہ داری بھی دیں گے ،جس سے ان کی سماجک ،تعلیمی و مالی ترقی ممکن ہو سکے ۔انہوں نے وزیراعظم کے پسماندہ مسلمانوں کی ترقی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ وزیراعظم سچّر کمیٹی و رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کے بموجب مسلم پچھڑے و دلیتوں کے سماجک و تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ،اگر ،%15 فیصد ریزرویشن اقلیتوں کو بھی دیں ،جس کی پیس پارٹی حمایت کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کی سفارشات کے بموجب 27 فیصد او بی سی ریزرویشن میں سے منڈل کمیشن کے بموجب مسلم پچھڑوں کو 7.44 فیصدی ریزرویشن ،اور مسلم دلتوں کو سکھ بودھ کی طرح ہی دلت ریزرویشن دیا جائے ۔پیس پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ وزیراعظم مسلم پسماندہ قیادت والی سیاسی پارٹیوں کو سیاسی حصہ داری دے کر ان کے مسائل کا تصفیہ کریں ۔مسلم عسائی دلتوں کا (آئین کے خلاف ) حقوق چھین لیا گیا ،کہ وہ مسلمان و عسائی ہیں ،جبکہ بودھ و سکھ وغیرہ کا ریزرویشن جاری ہے ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ پسماندہ مسلمانوں کو سیاسی حصہ داری کے بغیر ان کی فلاح بہبود ممکن نہیں ہے ۔وزیراعظم اگر حقیقت میں سنجیدہ ہیں ،اور پسماندہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو منڈل و رنگناتھ مشرا کمیشن کے بموجب مسلم پچھڑوں کو %7.44 فیصد ریزرویشن و مسلم دلت کو دلت ریزرویشن دے کر ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقے کو سیاسی حصہ داری دیئے بغیر ان کی سماجک ،تعلیمی و مالی ترقی ممکن نہیں ہے ۔ پیس پارٹی کو پورا اعتماد ہے کہ وزیراعظم پسماندہ طبقے کی ترقی کے لئے مثبت قدم اٹھائیں گے ۔