نئی دہلی۔ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نوجوان وکٹ رشبھ پنت کے ساتھ موجودہ وقت میں روا سلوک کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اہمیت کے سبب پنت پر زبردست دباؤ ہو گیا تھا ۔واضح رہے کہ رشبھ پنت کو ایک وقت سابق وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کا جانشین سمجھا جانے لگے تھا لیکن آج ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بن رہی ہے ۔ پنت کی مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے تجربہ کار وردھمان ساہا ٹسٹ میں کپتان وراٹ کوہلی کی پہلی پسند بن گئے ہیں جبکہ کے ایل راہول ونڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں وکٹ کیپر کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے پنت کی اس صورتحال پرکہا کہ پنت کو ٹیم مینجمنٹ اورکپتان کوہلی کا بہت تعاون ملا لیکن اب ان کے ساتھ سخت رویہ اختیارکرنا ضروری ہوگیا تھا۔عرفان پٹھان نے اسٹار اسپورٹس شوکرکٹ کنکٹڈ میں پنت کے بارے میں کہا کہ رشبھ پنت ایک نوجوان کھلاڑی ہے لیکن گذشتہ دنوں ان پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی تھی۔ اب میڈیا اور لوگوں کی توجہ اس سے دورکردی گئی ہے جو پنت کے لئے بہت اچھا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات آپ کو بہت تعاون ملتا ہے ۔ کوہلی نے بھی پنت کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ پنت کے ساتھ سخت رویہ ضروری تھا۔ٹی 20 انٹرنیشنل کے 27 میچوں میں پنت نے محض 20.5 کی اوسط سے 410 رنز بنائے ہیں۔ دریں اثنا ان کا اسٹرائیک ریٹ 122.02 رہا ہے ۔ اسی کے ساتھ ہی پنت نے 16 ون ڈے میچوں میں 26.71 کے اسٹرائک ریٹ سے صرف 374 رنز بنائے ہیں۔ اس کے ساتھ پنت نے وکٹ کیپنگ میں بھی توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تاہم ٹیسٹ میں پنت کی کارکردگی عمدہ رہی۔