پنجاب میں مودی حکومت کی ’زرعی مارکیٹنگ پالیسی‘کا مسودہ کو مسترد

   

چندی گڑھ: عام آدمی پارٹی(اے اے پی) نے پنجاب اسمبلی میں مودی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ’زرعی مارکیٹنگ پالیسی‘کے مسودے کو مسترد کرنے کے پنجاب حکومت کے تاریخی فیصلے کی تعریف کی ہے ۔ پنجاب اس کسان مخالف مسودے کو مسترد کرنے والی ہندوستان کی پہلی ریاست بن گئی ہے ۔اے اے پی کے سینئر ترجمان نیل گرگ نے منگل کو کہاکہ یہ ایک تاریخی دن ہے ۔ مودی حکومت کا مسودہ پنجاب اور اس کے کسانوں کے حقوق پر براہ راست حملہ تھا۔ مان حکومت نے ریاست کی کسان برادری کے مفادات کے تحفظ کیلئے بے مثال عزم کا اظہار کیا ہے ۔ گرگ نے یاد دلایا کہ جب ابتدائی طور پر مرکزی حکومت کی طرف سے مسودہ بھیجا گیا تھا تو پنجاب کے وزیر زراعت نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول کسان یونینوں، مزدوروں، کمیشن ایجنٹوں (آڑھتیوں) اور دیگر زرعی نمائندوں سے مشورہ کیا تھا۔ ان بات چیت کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ تجویز پنجاب کے مفادات کے خلاف ہے اور کسانوں کو نقصان پہنچے گی۔انہوں نے اس مسودے کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس کی وجہ سے کسانوں کو اپنی پیداوار کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔