پنچایت انتخابات:پرچہ نامزدگی کے آخری دنکئی علاقوں میں تشدد کے واقعات

,

   

کلکتہ : مغربی بنگا ل میں پنچایت انتخابات کے لئے نامزدگی کے عمل کے آخری دن بھی ریاست کے مختلف علاقوں تشد اور بمباری کی خبریں آرہی ہیں ۔نوشاد صدیقی کی قیادت والی آئی ایس ایف نے دعویٰ کیا کہ پنچایت انتخابات میں کم از کم چار افراد کا قتل کردیا گیا ہے ۔ تاہم پولیس کی جانب سے براہ راست کسی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، آئی ایس ایف اہلکار محی الدین ملا جمعرات کو بھنڈار میں ایک تصادم میں سر میں گولی لگنے سے موت ہوگئی ہے ۔ آئی ایس ایف اہلکاروں نے شکایت کی کہ ایس ایف آئی اہلکاروں کو آج دوپہر 12 بجے سے ویڈیو آفس نمبر 2 سے ملحقہ علاقے میں حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کے بعد ایک بم آئی ایس ایف کے ورکروں پر بم پھینکے گئے ۔ پورا علاقہ کالے دھوئیں سے ڈھکا ہوا ہے ۔ اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ جس سے محی الدین کو گولی لگی اس میں محی الدین کی موت ہوگئی ہے ۔آئی ایس ایف کے کچھ حامیوں نے کیمرے کے سامنے کہا کہ گولہ باری کی وجہ سے آخری تاریخ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرا سکے ۔ مقامی ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ متعدد زخمیوں کو اسپتال میںلے جایا گیا ہے ۔ بدامنی بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

پنچایت انتخابات: الیکشن کمیشن کے کردار پر کلکتہ ہائیکورٹ برہم
کولکاتا : جسٹس راج شیکھر منتھر نے پولیس کو کاشی پور، بھنارڈ، کیننگ میں آئی ایس ایف، بی جے پی، بائیں بازو، کانگریس امیدواروں کی نامزدگی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جو لوگ نامزد کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے جلسہ گاہ کے بارے میں مقامی تھانے کو مطلع کریں گے ۔ اس کے پیش نظر مقامی پولیس سٹیشن نامزدگی مرکز تک پہنچائے گا۔ جسٹس راج شیکھر منتھر نے یہ حکم دیا ہے ۔دوسری طرف پنچایت انتخابات سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت چیف جسٹس ٹی ایس شیواجنم کی صدارت والی ڈویژن بنچ میں ہوئی۔ وہیں چیف جسٹس نے کمیشن کے کردار پر برہمی کا اظہار کیا۔ جج نے کہا کہ عدالت سمجھنا چاہتی ہے کہ کمیشن کیا چاہتا ہے ؟ ریاستی الیکشن کمیشن خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا ہے ۔ یا تو کمیشن کو عدالتی حکم پر عمل کرنا چاہیے ، یا اگر وہ حکم سے مطمئن نہیں ہے تو اسے اعلیٰ عدالت میں جانا چاہیے ۔ یہ اس طرح نہیں چل سکتا۔ ریاست میں حالات بالکل نارمل نہیں ہیں۔چیف جسٹس کے ڈویژن بنچ نے مزید کہا کہ میں کمیشن کو مشورہ دینے نہیں بیٹھا ہوں کہ آپ ہائی کورٹ جائیں۔ آپ کے پاس ہائی کورٹ جانے کا اختیار ہے ۔ لیکن اگر آپ ایسی صورتحال پیدا کرتے ہیں جہاں ہمارے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری ابتدائی رائے میں آپ (الیکشن کمیشن) نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں ہماری ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔اس کے جواب میں ریاست کے وکیل نے کہا کہ ‘‘گزشتہ روز ISF کے 15000 حامی کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئے تھے ۔ نامزدگی مرکز میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ بی جے پی کے دو لیڈروں نے دو اضلاع میں بدامنی ٹکی ہے ۔