! پوسٹ گریجویٹ جاروب کش

   

پی ایچ ڈی کے لیے بھی کوالیفائی
ارکان خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد
بہتر ملازمت کی تلاش

حیدرآباد ۔ 10 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ایم ایس سی میں فرسٹ کلاس کامیاب ہونے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے رجنی شہر حیدرآباد میں جاروب کشی کا کام کرتے ہوئے اپنے ارکان خاندان کا پیٹ بھر رہی ہے ۔ ’ زندگی امتحان لیتی ہے ‘ مشہور نغمہ کے یہ بول پوری طرح رجنی پر صادق آتے ہیں ۔ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی رجنی نے محنت و لگن سے پوسٹ گریجویٹ تک بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم حاصل کی ۔ ضلع ورنگل پرکال میں غریب خاندان میں پیدا ہونے والی رجنی نے اول درجہ میں دسویں کا امتحان کامیاب کیا ۔ ڈاکٹر بننے کے لیے بی پی سی میں انٹر میڈیٹ کی تعلیم حاصل کی اور 87 فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کی ۔ ایمسیٹ میں میڈیسن کے لیے نشست حاصل نہ ہونے پر بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد ایم ایس سی آرگنگ کیمسٹری میں داخلہ لیتے ہوئے فرسٹ کلاس میں کامیابی حاصل کی ۔ 2013 میں پی جی کورس مکمل کرنے والی رجنی نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے بھی کوالیفائی ہوئی ۔ اسی وقت والدین نے ایک وکیل کے ساتھ رجنی کی شادی کرادی وہ اپنے شوہر کے ساتھ حیدرآباد پہونچی ، چند دن تک زندگی بہتر رہی انہیں دو بچے بھی ہیں ۔ خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے رجنی نے مسابقتی امتحانات تحریر کرتے ہوئے ملازمت کی بھی تلاش کی ۔ اسی دوران اس کے 30 سالہ شوہر کے قلب کا آپریشن ہوا تین مرتبہ اسٹنٹ ڈالنا پڑا صحت کی بنیاد پر رجنی کا شوہر ملازمت سے دور ہوگیا ۔ دو بیٹوں ، شوہر اور ساس کی زندگی کی ذمہ داری رجنی کے کندھوں پر آگئی ۔ ملازمت کی تلاش کی یہاں تک کہ ترکاری بھی فروخت کی ۔ جس سے گھر کی ذمہ داریاں پوری نہ ہونے پر جی ایچ ایم سی میں کنٹراکٹ پرجاروب کشی کی خدمات انجام دے رہی ہیں جس سے رجنی کو ماہانہ 10 ہزار روپئے تنخواہ حاصل ہورہی ہے ۔ رجنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارکان خاندان کیلئے ہر بڑی سی مصیبت قبول کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہیں بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے ۔ رجنی نے بتایا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ کاروبار صحیح نہ ہونے کی وجہ سے سوپر بازار اور مالس میں ملازمت نہیں ملی ۔ جاروب کشی کے کام میں پہلے دن مشکلات پیش آئیں آہستہ آہستہ وہ کام کررہی ہے لیکن بہتر ملازمت کیلئے بھی اپنی کوشش کو جاری رکھی ہوئی ہیں ۔۔ N