پولیس چالانات کے بعد اب بھاری برقی بلوں کی اجرائی پر شدید برہمی

,

   

غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا حکومت پر الزام
حیدرآباد۔10جون(سیاست نیوز) پولیس کے چالانا ت اور اب برقی بلوں کے ذریعہ عوام کو لوٹا جا رہاہے ۔شہریو ںمیں حکومت کے خلاف جذبات تیزی سے فروغ حاصل کرنے لگے ہیں اور شہری یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اپنے اخراجات کی پابجائی کے لئے عوام کی جیبو ں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کی ضبطی اور ان پر بھاری چالانات کے ذریعہ لاک ڈاؤن میں بھی حکومت نے شہریوں کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے اور اب جبکہ لاک ڈاؤن میں رعایت کے بعد برقی بلوں کی اجرائی کے نام پر عوام سے کروڑہا روپئے وصول کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ک ڈاؤن کے دوران حکومت نے عوام پر چالانات کیلئے نت نئے طریقہ تلاش کئے ہیں اور عوام کو اس بات کا احساس بھی ہونے نہیں دیا گیا موٹر سیکل چلانے والے پر ہیلمٹ کے لزوم کے ساتھ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی جانب سے پیچھے بیٹھنے والے پر بھی ہیلمٹ کا لزوم عائد کردیا علاوہ ازیں لاک ڈاؤن میں راحت سے قبل ایک اور حکم نامہ کے ذریعہ موٹر سیکل کے ہینڈل پر گلاس نہ ہونے پر بھی چالان کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن میں راحت کے ساتھ جاریہ ماہ سے برقی بلوں کی اجرائی کے اقدامات کئے گئے اور اس کے ساتھ ہی عوام کی شکایات کا سلسلہ شروع ہوگیا لیکن اب عوام نے لاک ڈاؤن کے دوران ضبط کی گئی گاڑیوں کو کئے گئے چالانات ‘ اور نئے چالانات کے بہانوں اور بھاری برقی بلوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنا شروع کردیا ہے اور حکومت کی معاشی ابتر ی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے ہیں کہ ریاستی حکومت عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے اپنے اخراجات کی پابجائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور غیر محسوس طریقہ سے آمدنی حاصل کی جانے لگی ہے۔عوام کا یہ احساس ہے کہ حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر الانات کی مہم چلائی گئی تاکہ سرکاری خزانہ کو بھرا جاسکے ۔لاک ڈاؤن کے دوران ضبط کی گئی گاڑیوں کو مالکین کو واپس حوالہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں لیکن بیشتر گاڑیوں کے مالکین کی جانب سے اس مدت کے دوران چالان بھی ادا کیا گیا ہے اور کئی گاڑیوں کو جو چالان کیا گیا ہے اس کے متعلق تاحال کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔