پرانے شہر میں رات کے وقت ہوٹلیں ، ریستوران پر روک ، نئے شہر میں رات بھر جشن کا ماحول
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) پولیس کا نئے شہر اور پرانے شہر کے ساتھ امتیازی سلوک کئی طریقوں سے ثابت ہوتا ہے لیکن گذشتہ چند برسوں سے رات کے اوقات میں فوڈ کورٹس کو رات دیر گئے تک کھلارکھنے کے معاملہ میں نئے شہر میں موجود ڈرائیو ان جہاں کئی ایک ہوٹل اور ریستوراں موجود ہوتے ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن پرانے شہر کے علاوہ شہر کے دیگر حصوں میں جہاں تجارتی ادارے اگر رات 12بجے کے بعد کھلے رہتے ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ ان کو چالان ہوجائے تو ان تجارتی اداروں کے ذمہ دارو ںکو جیل کی بھی ہوا کھانی پڑرہی ہے جبکہ نئے شہر کے پاش علاقوں میں موجود ڈرائیو ان کو کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور ان مقامات پر رات دیر گئے تک بھی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور سرگرمیو ںکو روکنے کے لئے محکمہ پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی تو کجا ان ڈرائیوان کا رخ کرنے سے بھی اجتناب کیا جاتا ہے جس کے سبب یہ ڈرائیو ان رات دیر گئے تک تفریح کرنے والوں کی آماجگاہ بنتے جار ہے ہیں۔ جوبلی ہلز‘ بنجارہ ہلز اور مادھاپور کے علاقوں میں رات دیر گئے تک اشیائے خوردو نوش فروخت کرنے والے ادارے کھلے رہتے ہیں اس کے برعکس محکمہ پولیس کی جانب سے شہر کے دیگر مقامات پر تجارتی ادارو ںکو بند کروانے کیلئے ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں ان اداروں کے ذمہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے رات 12بجے تک بازارکھلا رکھنے کی اجازت کی فراہمی کے بعد محکمہ پولیس کی جانب سے ان تجارتی اداروں اور ریستوراں اور اشیائے خورد و نوش کی فروخت کرنے والے ادارو ںکو ہی نہیں بلکہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو بھی بند کروایا جاتا ہے اور پرانے شہر کی ہر سڑک پر یہ صورتحال دیکھنے ملے گی جہاں ٹھیلہ بنڈی رانوں کو بھگانے کیلئے پولیس کی گاڑیاں ان کا پیچھا کرتی ہیں اور بعض مقامات پر جہاں رات دیر گئے تک کاروبار کھلے رہتے ہیں وہاں زور زور سے سائرن بجایاجاتا رہتا ہے لیکن نئے شہر میں ایسے حالات نہیں ہوتے بلکہ رات کے 2 اور 3بجے بھی ڈرائیو ان میں کھانے کے لئے اطمینان سے بیٹھ سکتے ہیں اور محکمہ پولیس کی جانب سے کوئی بند کروانے یا اس جگہ موجود شہریوں کو گھروں کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور پرانے شہر میں اگر کوئی سڑک پر گفتگو کرتا ہوا بھی پایا جاتا ہے تو پولیس کی گاڑی اسے خوفزدہ کرتے ہوئے اس مقام سے بھگانے کی کوشش کرتی ہے اور شہریوں پر پولیس کی گاڑی اور وردی کا رعب ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ نئے شہر کے علاقو ںمیں اس طرح کی حرکتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ نئے شہر کے ان ڈرائیو ان میں اس طرح کی حرکت پر وردی والوں کو اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ پتہ نہیں رات دیر گئے ڈرائیو ان میں بیٹھنے والوں میں کون کس بااثر شخصیت کا فرد خاندان نکل آئے ۔اسی لئے نئے شہر میں ایسا نہیں کیا جاتا جس سے شہریوں کو تکلیف ہوتی ہو علاوہ ازیں ان ڈرائیو ان کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ وہ رات دیر گئے کاروبار کے لئے معقول انتظام کرتے ہیں اسی لئے محکمہ پولیس کی جانب سے ان کی جانب سے توجہ نہیں کی جاتی جو کہ ان کے لئے فائدہ مند ہے۔