پومپیو کا عراقی وزیر اعظم سے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

   

واشنگٹن، 2 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے پیش نظر عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی سے فون پر بات کرکے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا اور اس حملے کی سخت مذمت بھی کی۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگُس نے ایک بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔ترجمان نے کہا کہ ‘‘وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آج عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی سے فون پر بات کی اور بغداد میں 31 دسمبر کو امریکی سفارت خانے پر ایران کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے حملے کی سخت مذمت کی’’۔ محترمہ اورٹاگُس کے مطابق مسٹر پومپیو نے عراق کی موجودہ سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لئے وہاں کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے اور اس کے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ مسٹر پومپیو نے کہا کہ امریکہ عراقی آزادی اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔عراقی مظاہرین نے عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ شیعہ جنگجوؤں کو نشانہ بنانے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کے خلاف منگل کو بغداد میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا اور اس کی بیرونی باڑ کو جلا دیا تھا۔یہ حملہ پنٹاگان کی جانب سے اتوار کو دیئے گئے اس بیان کے بعد ہوا کہ اس نے ایران کی حمایت یافتہ گروپ کے کرکک شہر کے قریب امریکی ٹھکانے پر حملے کی جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق اور شام میں پانچ کتائب حزب اللہ ٹھکانوں کے خلاف‘دفاعی حملے ’ کئے ۔ کرکک میں جمعہ کو ہوئے حملے میں ایک امریکی فوجی کی موت ہو گئی تھی اور چار فوجی زخمی ہو گئے تھے ۔