پپل گوڑہ میں اراضیات کے ہراج پر تلنگانہ ہائیکورٹ کا حکم التواء

   

حیدرآباد۔22ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے پپل گوڑہ میں اراضیات کے ہراج پر حکم التواء جاری کیا ہے ۔ پپل گوڑہ سروے نمبر 301 میں شامل پلاٹ نمبرات 25,26,27,28 کے علاوہ 29اور30 کے ہراج پر عدالت کی جانب سے لگائی گئی روک کے بعد پپل گوڑہ اراضی کا نیا تنازعہ منظر عام پر آیا ہے اور اس تنازعہ کے مطابق سروے نمبر 302 میں 11ایکڑ 02 گنٹہ اراضی کے مالک نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس با ت کا دعویٰ کیا کہ محکمہ صنعت تلنگانہ اور تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے ان کی ذاتی اراضیات کا ہراج کیا جا رہاہے کہ جو کہ ان کی اپنی زرخرید ہیں۔ لکشمی انجنیئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر پی نندا کمار نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے درخواست داخل کی اور عدالت کو اس اراضی کی خریدی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ نوول مل رضوانی نامی شخص جو کہ سندھ سے تعلق رکھتا ہے وہ تقسیم ہند کے دوران ہندستان پہنچ گیا اور اس شخص نے ہندستان حکام کے روبرو ہجرت کرنے والے شہریوں کی جانب سے داخل کئے جانے والے ادعاجات کے قانو ن کے تحت سندھ میں ان کی جانب سے چھوڑی گئی جائیدادوں کے عوض میں معاوضہ کا ادعا داخل کیا تھا رضوانی کے ادعا کو اس وقت کے عہدیداروں نے قبول کرتے ہوئے سندھ میں ان کی جانب سے چھوڑی گئی جائیدادوں کے عوض انہیں حیدرآباد کے 2 مواضعات میں1955 میں اراضیات بشکل معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی فیصلہ کے تحت ابراہیم باغ اور پپل گوڑہ میں اس دور میں محکمہ مال کے حکام کی جانب سے اراضیات حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ان احکام کی بنیا داور حقیقی مالک ہونے کے سبب ان کی کمپنی نے رضوانی سے ان اراضیات کی خریدی کا معاہدہ کیا ہے اسی لئے لکشمی انجنیئرنگ اینڈد کنسٹرکشنس نے پپل گوڑہ میں موجود سروے نمبر 301 پر اپنا دعویٰ پیش کیا ہے اور ان کی درخواست کی سماعت کے بعد کارگذار چیف جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ اور جسٹس ٹی ونود کمار پر مشتمل بنچ نے ٹی ایس آئی آئی سی کی جانب سے کئے جانے والے اس ہراج میں مخصوص پلاٹ نمبرس کی فروخت پر حکم التواء جاری کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عدالت سے رجوع ہونے والی کمپنی نے 2005 میں پپل گوڑہ کی اس اراضی کو خریدنے کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت میں رجسٹرڈ دستاویزات جمع کروائے ہیں۔M