پچاس لوگوں کے جمع ہونے پر کورونا پھیلنے کا 90 فیصد امکان

   

آکسیجن کی کمی کا شکار لوگوں کے لیے ڈیکسا میتھا سون مفید
روایتی چٹکلوں کے استعمال میں اعتدال ضروری، ممتاز ماہر وبائیات ڈاکٹر وجئے یلدانندی کا انٹرویو
حیدرآباد: سارا ملک فی الوقت کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے ہر روز تین لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہورہے ہیں۔ ہر دن کم از کم 2 ہزار افراد زندگیوں سے محروم ہورہے ہیں۔ روبہ صحت ہونے کی شرح بھی گھٹ رہی ہے۔ پہلے یہ 97% تھی اب گھٹ کر 82.54 فیصد ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں آکسیجن کی بھی قلت ہے۔ ان حالات میں صرف احتیاط ہی کے ذریعہ ہم اور آپ کورونا کے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کورونا کے اثرات سے محفوظ رہنے سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم ایسے مقامات پر جانے سے گریز کریں جہاں بہت زیادہ لوگ جمع ہوتے ہوں۔ فیس ماسک کا لازمی استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہاتھ بار بار دھوئیں سنیٹائز کرتے رہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر وبائیات ماہر متعدی امراض ڈاکٹر وجئے یلدانندی نے’سیاست‘ سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ پُرہجوم مقامات جانے سے گریز کریں کیونکہ اگر کسی مقام پر 10 لوگ جمع ہیں تو وہاں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہونے کے 30 فیصد امکانات ہوتے ہیں اور اگر 50 لوگ جمع ہوتے ہیں تو لوگوں کے کوویڈ سے متاثر ہونے کے 90 فیصد امکانات ہوتے ہیں اس لئے سماجی اور جسمانی فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر وجئے یلدانندی نے بتایا کہ کورونا بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے والا وائرس ہے۔ ہوا کے ذریعہ بھی یہ پھیلتا ہے۔ ان حالات میں ہم تمام کو دو گز کی دوری بنائے رکھنا چاہیئے۔ یہ دور ایسا ہے کہ اس میں حکومتوں یا سرکاری اداروں پر انحصار کی بجائے ہماری صحت کی ذمہ داری ہمیں لینی چاہیئے۔ کورونا کے علاج سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ Pulse Oximeter لگاکر یہ دیکھنا ہے کہ آپ کے جسم میں آکسیجن کی سطح 94 فیصد سے زیادہ ہے تو آپ ٹھیک ہیں، آکسیجن کی سطح 94 فیصد سے کم ہو تو پھر آپ کو DEXAMETHASONE لینا چاہیئے۔ جن لوگوں میں آکسیجن کم ہوتی جارہی ہے ان لوگوں کو DEXAMETHASONE سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ان کی زندگی بچ جاتی ہے۔ اس سوال پر کہ حالیہ دنوں میں اکثر یہی سننے میں آرہا ہے کہ لوگ ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں فوت ہورہے ہیں اور یہ بھی کورونا وائرس کے باعث ہورہا ہے؟ ڈاکٹر وجئے نے بتایا کہ خون میں D-DiMEe بڑھ جاتا ہے تو خون گاڑھاہوجاتا ہے اور Blood Clotting ( خون کے لوتھڑے بننا شرع ہوجاتے ہیں ) ایسے میں مریض کو خون پتلا کرنے والی ادویات دینی چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کورونا کے بارے میں 1960 سے ہی یہ ثابت ہوگیا تھا کہ چند لوگوں کوجو سردی زکام ہوتا ہے وہ ایک طرح کا کورونا ہی ہے جو متاثر کرتا ہے۔ الگ الگ طرح کے کورونا وائرس ہوتے ہیں۔ انسانوں ، جانوروں اور پرندوں میں یہ پائے جاتے ہیں۔ 20 سال پہلے کورونا سے جو بیماری پیدا ہوئی اُسے SARS کہتے تھے وہ بھی خطرناک بیماری تھی بعد MERS آیا وہ بھی انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرتا رہا۔ اس بیماری میں متاثر ہونے والے 10 میں سے 3 افراد موت کا شکار ہوجاتے تھے۔ اب کی بار کووڈ آیا ہے یہ بھی جانوروں سے آیا۔SARS COVID 2 بڑی تیزی سے پھیلتا ہے اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنی شکل کو بدلتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر وجئے یلدانندی کے مطابق ٹیکہ سب کو لینا چاہیئے۔ انشاء اللہ وکسین سب کو دینے سے کورونا رک جائے گا۔ ہندوستان بلت زیادہ اس لئے متاثر ہوا کیونکہ ہمارے ملک کی آبادی 138 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ لوگوں میں شعورکی بہت زیادہ کمی ہے( حکومتوں کی پالیسیوں اور پروگرامس میں بھی بے شمار خامیاں ہیں، سنجیدگی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ناقص حکمت عملی اور بیکار منصوبہ بندی بھی اس کیلئے ذمہ دار ہیں) ۔ ڈاکٹر وجئے نے بتایا کہ چند لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ انہیں کوویڈ ہوا یا نہیں وہ لوگ دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ آپ کو محسوس ہو یا نہ ہو یہ سوچ لینا چاہیئے کہ خطرہ ضرور ہے۔ ڈاکٹر وجئے نے ایک اور اہم بات یہ بتائی کہ کورونا وائرس 7 یا 10 دن میں نکل جاتا ہے۔ کورونا سے بدن میں جلن ہوتی ہے۔ پھیپھڑے ، گردے ، دل وغیرہ جل جاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ Remdesivir سے کسی کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔ اس دوا سے جگر کو نقصان ہوسکتا ہے۔ Budecort Inhaler سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ہاں جو لوگ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہیں انہیں کوویڈ سے زیادہ خطرہ ہے۔ ان کے خیال میں روایتی دواؤں ، چٹکلوں کا استعمال حد سے زیادہ نہ کیا جائے۔ بہت زیادہ شکر اور زیادہ نمک کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے۔ وقت پر سونا ، وقت پر بیدار ہونا بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔