نئے کپڑے نہ پہننے سے کوئی سوال نہیں کرے گا ، بھوکا سوجائے تو ضرور سوال ہوگا : محمد فاروق حسین
حیدرآباد۔20مئی(سیاست نیوز) عید پر نئے کپڑے نہ پہننے پر آپ سے کوئی سوال نہیں ہوگا بلکہ اگر آپ کا پڑوسی بھوکا سو جائے تو آپ سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ اللہ رب العزت نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ جو تعلیمات امت تک پہنچائی ہیں ان تعلیمات پر عمل آوری کے ذریعہ ہم اللہ کی ناراضگی کو دور کرسکتے ہیں۔ جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ ان حالا ت میں عید کی خریداری کے بجائے اپنے غریب مستحق پڑوسی اور رشتہ داروں کا خیال کریں اور انہیں ان کے حال پر نہ چھوڑیں بلکہ ان کی کیفیت لیتے ہوئے ان کی مدد کریں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے کہا کہ جب علماء اکرام یہ کہہ رہے ہیں کہ عید الفطر کے لئے نئے کپڑے لازمی نہیں ہیں اور نہ ہی صلواۃ العید الفطر کی کوئی گنجائش باقی ہے تو ایسے میں عید کی خوشیاں بانٹنے کے ساتھ ساتھ نیکیوں کے حصول پر توجہ دیں اور اب جو باقی ایام ماہ رمضان المبارک کے رہ گئے ہیں ان میں بازارو ںکا رخ کرنے کے بجائے عبادات کو ترجیح دیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کورونا وائرس کو مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور ابتدائی کوششوں میں کچھ حد تک انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن ان کوششوں کو مسلمانوں نے اپنے منظم حکمت عملی سے ناکام بنایا ہے مگر اس کے باوجود انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ان حالات کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو ان عناصر کا دوبارہ شکار ہونے سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے جو کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ پڑوسی بھوکا رہے گا تو آپ کو اللہ کے پاس آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا
جبکہ نئے کپڑے نہ پہننے پر اللہ کو جواب دینا نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بازاروں کے کھلنے پر خوشیاں نہ منائیں بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران جو احتیاط کی جا رہی تھی اس سے زیادہ احتیاط کریں کیونکہ تجارتی اداروں کی کشادگی کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر ہے اور پر ہجوم مقامات سے دور رہتے ہوئے کورونا وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے علاوہ ازیں سماجی رابطہ کے اصولوں کے علاوہ ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے محلہ کے غریب خاندانو ںکی مدد اور غریب رشتہ داروں کی مدد کے ذریعہ عید الفطر کے اہتمام کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جمعۃ الوداع اور عید الفطر کے علاوہ مکمل رمضان کے دوران مساجد میں ہم نہیں جاسکے اور شب قدر کی عبادات کا اہتمام نہیں کرسکے ایسے میں بازار کا رخ کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا اس بات پر غور کرنا چاہئے ۔جناب محمد فاروق حسین نے عامۃ المسلمین کو مشورہ دیا کہ وہ سماجی فاصلہ کی برقراری کے اصولوں کو یقینی بنانے کے علاوہ ماسک کے لزوم پر عمل آوری کریں اور عید الفطر کے موقع پر بغلگیر ہوکر مبارکبادیں دینے سے بھی اجتناب کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جب نماز عید الفطر کی ادائیگی کے معاملہ میں علمائے اکرام نے فیصلہ کردیا ہے تو ایسے میں گلے لگ کر مبارکبادیں دینے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ انہو ںنے علماء ‘ ڈاکٹرس ‘ صحافیوں‘ بلدی عملہ کو علاوہ دیگر سے اظہار رتشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اقدامات کو عوام تک پہنچانے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے میں ان شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا اہم کردار رہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ بھی علماء امت کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔