پھر وہی جگل بندی شروع : مجلس پر پابندی لگانے بنڈی سنجے کا مطالبہ

,

   

اسد اویسی کی جانب سے دہشت گردتنظیموں کی مذمت محض اداکاری، ووٹ بینک کیلئے ٹی آر ایس ۔ مجلس سازباز

حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی کے نئے صدر بنڈی سنجے کمار کے تقرر کے بعد زعفرانی جماعت اور شہر کی مقامی جماعت کے درمیان دلچسپ انداز میں ’سیاسی جگل بندی‘ میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کمار نے مقامی جماعت اور اس کے صدر کو بظاہر اپنی سخت تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے کٹر مخالف ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے یہاں تک کہہ دیا کہ مجلس دہشت گردوں کی جماعت ہے اور اس پر امتناع عائد کردیا جانا چاہئے۔ ریاستی بی جے پی کے نئے صدر سنجے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کانگریس کے کارکنوں کی کثیر تعداد زعفرانی جماعت میں شمولیت اختیار کرے گی کیونکہ تلنگانہ میں کانگریس اب بکھرنے لگی ہے۔ لوک سبھا کیلئے پہلی مرتبہ منتخب بنڈے سنجے جنہیں گزشتہ ہفتہ تلنگانہ بی جے پی کا صدر مقرر کیا گیا تھا، خود کو ’ہندوتوا نظریات کا مجاہد‘ قرار دیا اور حکمراں ٹی آر ایس پر الزام عائد کیا کہ وہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد بھڑکانے کیلئے اسدالدین اویسی کے زیرقیادت اے آئی ایم آئی ایم سے مفاہمت کرچکی تھی۔(کیونکہ) مجلس حیدرآباد میں طاقتور موقف رکھتی ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے الزام عائد کیا کہ مجلس بلاشبہ دہشت گردوں کی جماعت ہے اور بظاہر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’اویسی کی جماعت میں پابندی عائد کردینا چاہئے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹی آر ایس اور مجلس کے درمیان محض ووٹ بینک کی خاطر کی گئی ساز باز کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک ریاست گیر مہم شروع کی جائے گی‘۔ بی جے پی کے نئے صدر نے جو بچپن ہی سے آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں، ریاستی بی جے پی کی صدارت پر فائز ہونے سے قبل نوجوانوں کے شعبہ بی جے وائی ایم اور دیگر اہم تنظیمی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

لوک سبھا کیلئے وہ 2019ء میں پہلی مرتبہ منتخب ہوئے اس سے قبل کارپوریٹر تھے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ ہندوتوا کے مختلف مسائل پر 2005ء اور 2011ء کے درمیان کم از کم سات مرتبہ جیل جاچکے ہیں۔ بنڈی سنجے عام طور پر مجلس پر سخت تنقید کیلئے شہرت رکھتے ہیں، اور حیدرآباد کی اس مسلم جماعت کی جانب سے بظاہر بی جے پی کو اس کے ہندوتوا ایجنڈہ پر تنقیدوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں کے درمیان تنقیدوں میں شدت کو سیاسی حلقوں میں ایک ’نئی سیاسی جگل بندی‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مجلس دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرچکی ہے تو بنڈی سنجے کمار نے جواب دیا کہ ’یہ محض اداکاری‘ ہے۔ سنجے کمار نے دعویٰ کیا کہ کانگریس چونکہ داخلی جھگڑوں میں اُلجھ چکی ہے چنانچہ اب وہ کمزور ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسا نظر آرہا ہے کہ یہ (کانگریس) بکھر رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس بہت جلد معدوم ہوجائے گی اور اس کے کئی قائدین اور کارکنان ہماری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ ٹی آر ایس سے مقابلہ کرنے کیلئے اس (کانگریس) کے قائدین ہماری پارٹی میں مزید شامل ہوں گے کیونکہ اب یہاں بی جے پی ہی ٹی آر ایس کی متبادل ہے۔