پہلو خان کے قاتلوں کی باعزت رہائی پر مایاوتی کی نکتہ چینی

   

لکھنو۔16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے جمعہ کے دن کانگریس پر راجستھان میں تساہل کا الزام لگایا جس سے پہلو خان کے کیس کا مجرم اس کی شدید غفلت کے سبب ہجومی قتل کی سزاء سے بچ گیا اور اس کی باعزت رہائی عمل میں آئی۔ الوار کی ایک عدالت نے چہارشنبہ کو پہلو خان کے ہجومی قتل کے تمام 6 ملزمین کو باعزت بری کردیا۔ مایاوتی نے اس واقعہ کو بدبختانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہوتا؟ اگر حکومت مظلوم پہلو خان کے خاندان کے افراد کے ساتھ انصاف کرنے کے معاملے میں احتیاط سے کام لیتی ۔ مگت شادی ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘ 55 سالہ پہلو خان اور ان کے دو بچوں اور دیگر افراد گایوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام کو منتقلی عمل میں لارہے تھے کہ مبینہ طورپر انہیں راستے میں روک کر اتوار ضلع کے گائوں بہرور کے قریب ہجوم نے گھیر لیا اور انہیں مارمار کر شدید زحمی کردیا۔ یہ واقعہ یکم اپریل 2017ء کو پیش آیا۔ پہلو خان کی بعد میں ایک دواحانے میں موت ہوگئی۔