حیدرآباد8اپریل(سیا ست نیوز) آپ اپنی آزادی کی حفاظت چاہتے ہیں! کیا آپ واقعی چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کے علاوہ آپ کے دوست احباب بغیر کسی خوف اور پولیس کی پابندیوں کے شہر میں دوبارہ اسی طرح سے گھوم سکیں جس طرح 22 مارچ سے قبل گھوما کرتے تھے ! اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو تو آپ کو چاہئے کہ ان احکامات کی پابندی کو یقینی بنائیں جن احکامات کے ذریعہ آپ کو گھر میں رہنے کیلئے مجبور کیا جا رہاہے۔ جی ہاں آپ حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں پر جتنا سختی سے عمل کریں گے اتنا ہی جلد آپ کو آپ کی آزادی حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ جب تک کورونا وائرس کی یہ کڑیاں نہیں ٹوٹتی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کو ختم کئے جانے کے آثار مفقود ہوتے جا رہے ہیں اور جب تک شہر اور ریاست میں کورونا وائرس کے متاثرین پائے جاتے رہیں گے اس وقت تک ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کی جاتی رہے گی کیونکہ کورونا وائرس کا واحد طریقہ علاج اور اسے پھیلنے سے روکنے کا طریقہ سماجی فاصلہ ہے اور متاثرین کے علاوہ عام شہریوں کو الگ تھلگ کرنے سے ہی اس وباء کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ حکومت کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ عوام کے اختیار میں ہے اور اگر عوام لاک ڈاؤن کا احترام کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کو روکنے میں تعاون کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں جلد آزادی حاصل ہوسکتی ہے اور وہ اپنے گھروں سے نکل کر معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں لیکن شہر کے بیشتر علاقوں میں لاک ڈاؤن کی پابندی نہ کئے جانے کی شکایات اور مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کے سبب حکومت کو لاک ڈاؤن میں توسیع کرنی پڑسکتی ہے ۔
