فٹمنٹ کے مسئلہ پر تعطل برقرار،ملازمین مطالبات پر اٹل
حیدرآباد۔6۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی نے پی آر سی پر عمل آوری کے سلسلہ میں سرکاری ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کی ہے ۔ ریاست میں پی آر سی پر عمل آوری کا معاملہ تعطل کا شکار ہے کیونکہ سرکاری ملازمین 55 فیصد فٹمنٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت نے ریاست کی معاشی صورتحال کے پیش نظر 14.29 فیصد فٹمنٹ کی پیشکش کی ہے۔ چیف منسٹر اور 13 ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کے اجلاس میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ جگن موہن ریڈی نے ملازمین کی تنظیموں کو مشورہ دیا کہ وہ حقیقی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونین اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کسی بھی مطالبہ سے قبل ریاست کی معاشی صورتحال کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یونین کی جانب سے جو مسائل پیش کئے گئے ہیں، ان کی مرحلہ وار انداز میں یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو یا تین دن میں حکومت پی آر سی کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے گی۔ ملازمین کی جانب سے 71 مطالبات پر مبنی نوٹس حوالے کی گئی جس پر چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کو جائزہ لینے کی چیف منسٹر نے ہدایت دی ہے ۔ ملازمین نے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے گاؤں اور وارڈ کی سطح پر کام کرنے والے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ کرنے اور پی آر سی پر جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیف سکریٹری کی قیادت میں کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ ملازمین کو 14.29 فیصد فٹمنٹ دیا جائے۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ریاست کو بھاری نقصان کے پیش نظر ملازمین کو حکومت کی پیشکش قبول کرنی چاہئے ۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد ملازمین کی تنظیموں نے واضح کیا کہ حکومت کے موقف کے اعلان کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ر