پی ایم سیکوریٹی : پیر تک حکومتوں کو کارروائی روکنے کی ہدایت

   

وزیراعظم کا 20 منٹ تک ہائی وے پر پھنسے رہنا سنگین مسئلہ ۔ سپریم کورٹ میں بحث

نئی دہلی :پنجاب میں چہارشنبہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے قافلے کے ساتھ سیکورٹی کی کوتاہی کے معاملے میں چیف جسٹس این وی رمنا نے سفری ریکارڈ اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو ملنے والے حقائق کو محفوظ رکھنے کی ہدایات دئیے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے پنجاب پولیس کے حکام، ایس پی جی اور دیگر ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ تعاون کریں اور پورا ریکارڈ سیل (مہربند) کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔وکلا تنظیم کی جانب سے دائر درخواست کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ منندر سنگھ نے درخواست گزار کی طرف سے دلائل دیتے ہوئے اسے ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے انکوائری کا مطالبہ کیا۔سپریم کورٹ نے مرکزی اور پنجاب حکومت کے پینل کو پیر تک کارروائی نہ کرنے کو کہا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت اب پیر 10 جنوری کو ہوگی۔ سی جے آئی نے کہا کہ ہمیں کوتاہی، لاپرواہی کی وجوہات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ ہم صرف سیکورٹی میں ہوئی کوتاہی کی ہی بات کررہے ہیں کہ نہ کہ اس پر کہ یہ کس نے کیا۔مرکز نے اس معاملے میں این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو نوڈل آفیسر بنانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے چندی گڑھ کے ڈی جی اور این آئی اے کے ایک آفیسر کو نوڈل افسر بنایا ہے۔قبل ازیں منیندر سنگھ نے دلیل دی کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے نہ کہ کسی خاص ریاست میں امن و امان کا مسئلہ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے جس میں پی ایم 20 منٹ تک پھنسے رہے۔ اس لیے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن پنجاب حکومت یہ تحقیقات نہیں کر سکتی۔