پیدائش ، موت کی تفصیلات کا آن لائن اندراج کرنے شہر کے تمام دواخانوں سے جی ایچ ایم سی کی اپیل

   

حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) نے شہر کے تمام ہاسپٹلس سے پیدائش اور اموات کی تفصیلات کا صرف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعہ رجسٹریشن کروانے کی اپیل کی ہے ۔ یہ اپیل اس لیے کی گئی تاکہ برتھ اینڈ ڈیتھ سرٹیفیکٹس جاری کرنے میں کارپوریشن کی جانب سے کوئی تاخیر نہ ہونے پائے ۔ کیوں کہ اس ماہ سرٹیفیکٹس کی اجرائی میں تاخیر ہوئی ہے ۔ اس تاخیر کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض گورنمنٹ ہاسپٹلس کی جانب سے تفصیلات کو آن لائن اپ لوڈ کرنے کے بجائے جی ایچ ایم سی وارڈ آفسیس میں فزیکل سرٹیفیکٹس حوالہ کئے گئے ۔ جب تک محکمہ صحت کی جانب سے تفصیلات کو اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا جی ایچ ایم سی کی جانب سے سرٹیفیکٹس جاری نہیں کئے جاسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص می سیوا سنٹر پر تمام درکار دستاویزات داخل کرتے ہوئے برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے درخواست داخل کرے بھی تو اگر ریاستی حکومت کے پورٹل پر تفصیلات دستیاب نہ ہوں تو سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا جائے گا ۔ پیدائش کی تفصیلات کو اپ لوڈ کرنا دواخانہ کا فرض ہے ۔ اب تک ، لوگ می سیوا سنٹرس کے ذریعہ برتھ / ڈیتھ سرٹیفیکٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور اسی سنٹر پر سرٹیفیکٹس کی ہارڈ کاپیز جاری کی جاتی ہیں ۔ My GHMC ایپ سے ایک ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ بھی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔ برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے ہاسپٹل کی جانب سے دئیے جانے والے دستاویزات درخواست فارم کے ساتھ می سیوا سنٹر پر داخل کرنا ہوگا ۔ لیکن ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کرنے کے لیے دو طریقے ہیں ، اگر موت دواخانہ میں ہو تو ہاسپٹل مینجمنٹ کو راست طور پر تفصیلات آن لائن داخل کرنا ہوگا اور رجسٹرار آف برتھ اینڈ ڈیتھ سے پوسٹ ۔ اپرول ۔ درخواست گذار می سیوا پر سرٹیفیکٹ لے سکتا ہے ۔ اگر کوئی دواخانہ ایسا ہو جس کے پاس تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے لیے لاگ ان کریڈنشیلس نہ ہوں تو انہیں تفصیلات جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کے پاس داخل کرنا ہوگا جو انہیں اپ لوڈ کرتے ہیں ۔ تفصیلات اپ لوڈ ہوجانے پر شخص می سیوا پر سرٹیفیکٹ حاصل کرسکتا ہے ۔ اگر کسی کی گھر پر موت ہو تو ایسی صورت میں متوفی کے رشتہ داروں کو قبرستان سے ایک رسید حاصل کر کے اسے جی ایچ ایم سی سٹیزن سرویس سنٹر ( CSC ) میں داخل کرنا ہوگا ۔ سی ایس سی پر تفصیلات داخل کرنے کے بعد ہی انہیں سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے می سیوا جانا چاہئے ۔۔