جمعیت کے وفد کی موب لنچنگ کے متاثرہ خاندان سے ملاقات، انصاف کی جدوجہد میں تعاون کا تیقن
نئی دہلی: جمعیت علماء ہند نے ملک میں ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آندھی چلنے پر فکر کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت کا کہنا ہے کہ روڑکی میں بے قصور وسیم کے بہیمانہ قتل کی گونج ابھی تھمی نہیں تھی کہ ہریانہ کے چرخی۔دادری سے یہ دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی کہ نام نہاد گئو رکھشکوں نے بیف کھانے کا الزام لگا کر دو مسلم نوجوانوں کو دھوکے سے بلایا اور ان پر برسر عام مظالم کیے۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ ان میں سے ایک صابر ملک کا موقع پر ہی انتقال ہوگیا جبکہ دوسرا نوجوان سنگین طور پر زخمی ہونے کے سبب ہاسپٹل میں زیر علاج ہے۔ ظلم کے شکار صابر ملک کا تعلق مغربی بنگال سے تھا اور ہریانہ میں رہ کر وہ کباڑ کا کام کر رہا تھا۔ موب لنچنگ واقعہ کی خبر جیسے ہی جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کو ہوئی انھوں نے جمعیت علماء مغربی بنگال کے ذمہ داروں کو ہدایت دی کہ وہ فوراً صابر ملک کے ارکان خاندان سے ملاقات کریں۔ یکم ستمبر 2024 کو امداد اللہ خاں کے ساتھ جمعیت علماء ہند کا ایک نمائندہ وفد مہلوک کے گاؤں تالاٹوپ ضلع 24 پرگنہ پہنچا۔ وفد نے فیملی والوں کے تئیں تعزیت اور ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا پیغام سنایا۔ اپنے اس پیغام میں انھوں نے صابر ملک کے ارکان خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور یہ کہ جمعیت علماء ہند اس بہیمانہ قتل میں جو شرپسند عناصر ملوث ہیں ان کو جرم کی سزا دلانے کے لیے آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔اس موب لنچنگ واقعہ پر مولانا ارشد مدنی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل نہیں بلکہ درندگی کی انتہا ہے، بھیڑ کی شکل میں اکٹھا ہو کر کسی بے قصور کو پیٹ پیٹ کر مار دینا ظلم کی انتہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست عناصر اور ملک کا جانبدار میڈیا برسوں سے لوگوں کے ذہن میں نفرت کا جو زہر بو رہا ہے، صابر ملک کی لنچنگ اس کی سب سے خراب مثال ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نام نہاد گئو رکشکوں کے بھیس میں سماج دشمن عناصر کا ایک گروہ ہے جسے تشدد اور درندگی کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔مولانا ارشد مدنی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے باوجود یہ درندگی رک نہیں رہی ہے۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں، ان کو سیاسی تحفظ حاصل ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ بھیڑ کے ذریعہ تشدد کوئی مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی طور پر ہی حل ممکن ہے۔ اس لیے سبھی سیاسی پارٹیوں، خصوصاً وہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں کھل کر سامنے آئیں ور اس کے خلاف قانون بنانے کے لیے قدم اٹھائیں۔ مولانا ارشد مدنی نے اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ موب لنچنگ منصوبہ بند ہو سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ جلد ہی ہریانہ میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔
ممکن ہے کہ فرقہ پرست عناصر نے یہ سب فرقہ وارانہ گول بندی پیدا کرنے کے لیے کیا ہو۔ مولانا مدنی نے کہا کہ کچھ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں لیکن کچھ سیاسی لیڈران یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گائے کے ساتھ لوگوں کے جذبات جڑے ہوتے ہیں تو کیا یہ اس بات کی آزادی ہے کہ آپ گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر کسی بے قصور کی زندگی چھین لیں؟ انھوں نے یہ بھی کہا کہ صابر ملک کے گھر میں بیوہ ماں کے علاوہ بیوی اور دو چھوٹے بچے ہیں۔ بڑا بیٹا شاکر پانچ سال کا ہے جبکہ بیٹی شاکرہ کی عمر صرف دو سال ہے۔ ان پر اچانک مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کیونکہ گھر میں اب کوئی کمانے والا نہیں رہا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف کے دوہرے پیمانے سے ہی بدامنی اور تباہی کے راستے کھلتے ہیں۔