چارمینار داخلہ ٹکٹ کی بلیک مارکٹنگ

   


آن لائن سہولت کے باوجود کمیشن ایجنٹس اضافی قیمت پر ٹکٹ فروخت کرنے میں مصروف

حیدرآبادَ تعطیلات کے موسم میں تاریخی عمارتوں کے پاس داخلہ ٹکٹ کی کالابازاری کی شکایات معمول بنتی جار ہی ہے ۔ پچھلے دنوں قلعہ گولکنڈہ کے پاس داخلہ ٹکٹوں کی کالابازاری کی شکایت کے بعد اب تاریخی چارمینار میں داخلہ کیلئے ٹکٹ بلیک کئے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود ان تاریخی عمارتوں کا مشاہدہ کرنے والے سیاحوں کو بلیک میں ٹکٹ خریدنے پڑرہے ہیں۔ چارمینار میں داخلہ کیلئے 25 روپئے فی کس وصول کئے جا رہے ہیں اور داخلہ حاصل کرنے والوں کو کوئی ٹکٹ جاری نہیں کیاجا رہاہے جبکہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے تحت سیاحوں کو آن لائن ادائیگی کے ذریعہ داخلہ حاصل کرنا ہے لیکن چارمینار میں داخل ہونے کیلئے اب کسی آن لائن ٹکٹ کی خریدی کی ضرورت نہیں رہی بلکہ سیاحوں سے 25 روپئے فی کس وصول کرتے ہوئے انہیں داخل ہونے دیا جارہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس بلیک مارکٹنگ میں خود اے ایس آئی کے ملازمین بھی ملوث ہیں جو کہ سیاحوں کو بلیک ٹکٹ فروخت کرنے والوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ تھیٹرس کو نہ کھولے جانے کے سبب شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے شہری بھی ان تاریخی مقامات کا رخ کر رہے ہیں اور اپنے شہر میں موجود تاریخی مقامات کی سیاحت میں مصروف ہیں لیکن ان کی اس سیاحت سے ہی اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ قلعہ گولکنڈہ کے بعد اب کالابازاری کرنے والوں کی جانب سے تاریخی چارمینار کے دامن میں بھی نقد 25 روپئے وصول کرتے ہوئے سیاحوں کو چارمینار میں داخلہ کی اجازت فراہم کی جا رہی ہے اور ان سے کوئی آن لائن وصولی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی ٹکٹ جاری کئے جا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد چارمینار کی سیاحت کے لئے پہنچنے والوں کی تعدداد میں حالیہ عرصہ کے دوران زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ یومیہ 2000 تا2500 افراد تاریخی چارمینار کے مشاہدہ کیلئے پہنچ رہے ہیں جن میں 10 فیصد کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ بیشتر لوگوں کو نقد رقم وصول کرتے ہوئے داخل ہونے کی اجازت فراہم کی جا رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو شکایات بھی موصول ہوئی ہیں اور چارمینار کے نگران عہدیداروں اور ملازمین کو بھی واقف کروایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اس میں ملوث ہیں۔