چارمینار کے اطراف رونقیں بحال ، چھوٹے کاروبار کا آغاز

,

   

سیاحوں کی آمد نہ ہونے سے تجارت متاثر ، گاہکوں کی اکثریت ہنوز بازار سے دور
حیدرآباد۔لاک ڈاؤن کے اثرات کے بعد تاریخی چارمینار کے آس پاس علاقوں میں رونق بحال ہونے لگی ہے اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ فٹ پاتھ تاجرین نے کاروبار کا آغاز کردیا ہے۔ ماہ مارچ کے اواخر میں ڈاؤن کے بعد سے شہر کے مرکزی مقام پر کوئی گہما گہمی نہیں رہی اور ماہ رمضان کے دوران بھی لاک ڈاؤن کے سبب یہ علاقہ مکمل سنسان رہا لیکن اب جبکہ بازاروں کی رونق بحال ہونے لگی ہے تواس علاقہ میں بھی تجارتی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں اور چھوٹے تاجرین اپنی جگہ واپس ہونے لگے ہیں ۔ چھوٹے تاجرین کا کہناہے کہ شہر میں سیاحوں کی آمد سے جو کاروبار ہوا کرتا تھا وہ کاروبار نہیں ہے اور تجارتی حالات پہلے کی طرح نہیں ہیں لیکن توقع ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران صورتحال معمول پر آنے لگے گی۔ چارمینار کے دامن میں کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجرین نے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز تو کردیا ہے لیکن ابھی تجارتی حالات بہتر نہیں ہیں۔ تجارتی اداروں کے ذمہ دارو ںکا کہناہے کہ اب جبکہ حالات معمول پر آتے نظر آرہے ہیں لیکن بازارو میں گاہک موجود نہیں ہیں اسی لئے حکومت کو چھوٹے تاجرین کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات پر غور کرنا چاہئے تاکہ ان کی زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ پرانے شہر کے مرکزی علاقہ میں جہاں لاک ڈاؤن سے قبل تجارتی سرگرمیاں عروج پر ہوا کرتی تھیں اب بیشتر تاجرین اپنے کاروبار پر واپس لوٹ چکے ہیں لیکن گاہک بازار میں نہیں لوٹ پائے ہیں جو کہ ان تاجرین کیلئے سب سے بڑی مشکل صورتحال ہے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ قریب 6ماہ کے وقفہ کے بعد وہ اپنے کاروبار تو شروع کرچکے ہیں لیکن تجارتی سرگرمیاں 10 فیصد بھی نہیں ہیں لیکن چارمینار کے دامن میں گہما گہمی شروع ہوچکی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ٹھیلہ بنڈی رانوں کیلئے معمولی قرض کی اسکیم شروع کی گئی ہے لیکن اس علاقہ میں قرض کی اسکیم سے استفادہ کیلئے رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ہونے کے سبب وہ قرض کی اسکیم سے بھی استفادہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ شہر کے ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ چارمینار کے دامن میں فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والوں کو بھی راحت پہنچانے اقدامات کرے کیونکہ وہ بھی معاشی ابتری کا شکار ہیں۔