عالمی مسائل پر تمام ملکوں کی ذمہ داری ، یو این جنرل اسمبلی سے جے شنکر کا خطاب
نیویارک : مغربی ممالک پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کو کہا کہ کچھ ممالک کے ایجنڈا طے کرنے اور دوسروں سے اس کے مطابق ہونے کی توقع کرنے کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 78ویں اجلاس کی عام بحث سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد موثر حل ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ہمیں ویکسین بھیدبھاو جیسی ناانصافی کو دوبارہ نہیں ہونے دینا چاہئے۔ تاریخی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے موسمیاتی کارروائی بھی جاری نہیں رہ سکتی۔ عالمی مسائل پر تمام ملکوں کی ذمہ داری ہونا چاہئیے ۔ خوراک اور توانائی کو ضرورت مندوں کے ہاتھوں سے نکال کر امیروں تک پہنچانے کیلئے بازار کی طاقت کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ نان الائنمنٹ کے دور سے اب ہم ‘وشو مترا – دنیا کیلئے ایک دوست’ کے دور میں ترقی کر چکے ہیں۔ یہ مختلف ممالک کے ساتھ جڑنے اور جہاں ضروری ہو مفادات کو ہم آہنگ کرنے کی ہماری صلاحیت اور آمادگی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ QUAD کی تیز رفتار ترقی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ برکس گروپ کی توسیع میں بھی یکساں طور پر واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’ کا ہندوستان کا ویژن صرف چند ممالک کے تنگ مفادات پر نہیں بلکہ کئی ممالک کے بنیادی خدشات پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 75 ممالک کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری قائم کی ہے۔ ہم آفات اور ہنگامی حالات میں پہلے جواب دہندگان بھی بن گئے ہیں۔ ترکی اور شام کے لوگوں نے اسے دیکھا ہے۔ G20 میں افریقی یونین کی شمولیت ایک ‘اہم قدم’ ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہندوستان کی پہل پر افریقی یونین کو G20 کے مستقل رکن کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ ایسا کرکے ہم نے ایک پورے براعظم کو آواز دی جس سے اس کوطویل عرصے سے محروم رکھا گیا تھا۔