چندرابابو کی گرفتاری پر وزیر کے ٹی آر کے بیان پر آندھرائی عوام کا شدید ردعمل

   

بی آر ایس کی دیگر ریاستوں میں مداخلت، تلنگانہ میں احتجاج کی اجازت نہیں، تلگودیشم حامیوں میں ناراضگی
حیدرآباد۔27۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے صدر تلگو دیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابونائیڈو کی گرفتاری پر احتجاج کے متعلق دیئے گئے بیان پر آندھرائی تلگو دیشم قائدین کے علاوہ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ بھارت راشٹرسمیتی قائدین مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کو دو سیاسی جماعتوں کے درمیان رقابت قرار دے رہے ہیں ۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ شائد اس بات کو بھول چکے ہیں کہ جب ان کی بہن و رکن قانون ساز کونسل کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی نوٹس اور پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا جا رہاتھا تو یہ کہا جار ہاتھا کہ یہ تلگو عوام پر حملہ اور انہیں ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’X‘ پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں آندھراپردیش میں موجود بھارت راشٹرسمیتی کے ریاستی دفتر کی عمارت کو دکھاتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اگر آندھرا کے معاملہ اور دو سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری کشیدگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر آندھراپردیش میں ان کی سیاسی جماعت کا دفتر کیا کر رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تلگو دیشم کے حامی کارکنوں کی جانب سے استفسار کیا جا رہاہے کہ جب پڑوسی تلگو ریاست کے معاملہ سے ہی اگر حکومت تلنگانہ کا تعلق نہیں ہے اور ان کی پارٹی کا تعلق نہیں ہے توچیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کیوں بار بار پڑوسی ریاست مہاراشٹرا میں جلسہ عام منعقد کررہے ہیں اور سینکڑوں گاڑیوں کے قافلہ میں مہاراشٹرا کے لئے روانہ ہوتے ہوئے دیگر ریاستوں کی سیاست کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں! گذشتہ یوم مسٹر کے ٹی راما راؤ نے مسٹر این چندر ابابو نائیڈوں کی گرفتاری کو ریاست آندھرا پردیش کا داخلی معاملہ اور دو سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی قرار دیتے ہوئے حیدرآباد یا تلنگانہ میں مسٹر نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی اجازت نہ دیئے جانے کا دفاع کیا تھا۔ اس کے بعد سے تلگو دیشم قائدین کے علاوہ پڑوسی ریاست کے تلگودیشم حامیوں کی جانب سے ان کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرسمیتی کو بھارت راشٹرسمیتی میں تبدیل کئے جانے پر بھی کئی سوالات کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جب وہ ایک سابق چیف منسٹر اور تلگو ریاست سے تعلق رکھنے والے سرکردہ عالمی شہرت یافتہ قائد کے متعلق کشادہ ذہن نہیں رکھ سکتے تو کس طرح ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنی جماعت کو فروغ دیں گے!