نئی دہلی: ہندوستان نے چاند کے جنوبی قطب میں چندریان 3 اتار کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ ہندوستانی سائنسدانوں کی اس تاریخی فتح میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طلباء میں سے دو نوجوان سائنسدانوں کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔ ان سائنسدانوں نے کہا کہ الفاظ اس لمحے کو بیان نہیں کر سکتے۔ ان میں سے اریب احمد یوپی کے مظفر نگر کے کھٹولی کا رہنے والا ہے اور امیت کمار بھردواج متھرا کا رہنے والا ہے۔جامعہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے اس تاریخی کامیابی پر عام خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان تین سابق طلباء اریب احمد، امیت کمار بھردواج اور محمد کاشف کو مبارکباد دی ہے۔ جامعہ برادری کو ان پر فخر ہے۔ اختر نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے موجودہ طلباء کے لیے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ انہوں نے مشن کی کامیابی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی مبارکباد دی ۔ کیمپس میں چندریان 3 کے وکرم لینڈر کی سافٹ لینڈنگ کا لائیو ٹیلی کاسٹ بھی دکھایا گیا تاکہ دوسرے طلباء بھی آگے بڑھنے کا خواب دیکھیں۔امیت کمار بھردواج، اصل میں متھرا کے رہنے والے اور وکاسپوری، دہلی کے رہنے والے نے بتایا کہ وہ 2019 میں جامعہ کے میکانیکل بیاچ سے ہوں۔ میزائل مین ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بچپن سے ہی میرے آئیڈیل رہے ہیں، لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اسرو کا حصہ بن سکوں گا۔ 4 فروری 2022 کو بطور سائنسدان SC میں شامل ہو کر ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ مجھے چندریان۔3 مشن کے لیے ’وکرم‘ کی محفوظ لینڈنگ کے دوران مکمل نیویگیشن کے لیے درکار لیزر بیسڈ سینسر کے ڈیزائن، تجزیہ اور نفاذ کے شعبہ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ جب مشن کامیاب ہوا تو مجھے فخر محسوس ہوا کہ میں بھی ہندوستان کی اس جیت میں شامل ہوں۔ اب گگنائن اور آدتیہ کا سفر ابھی باقی ہے۔ امیت کے والد دہلی حکومت میں افسر ہیں اور والدہ پرمود شرما ایک گھریلو خاتون ہیں۔ وہ اس جیت کا سہرا بھی اپنے والدین کے احسانات کو دیتا ہے۔ یوپی کے مظفر نگر کے کھٹولی کے رہنے والے اور جامعہ کے سابق طالب علم اریب احمد کہتے ہیں کہ ملک کی اس تاریخی جیت میں میرا بھی تھوڑا سا حصہ ہے۔ میں اس کیلئے خوش ہوں۔ اسرو میں آکر مجھے دنیا کے معروف سائنسدانوں کی ٹیم میں کام کرنے کا موقع ملا، یہ میری خوش قسمتی ہے۔ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم بھی چاند پر ہیں۔ اریب کے والد ایک تاجر اور والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ اریب کا کہنا ہے کہ جامعہ کے اساتذہ نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور اسرو کے امتحان کی تیاری بھی کرائی۔ اس سے زیادہ میں اپنے کام سے متعلق معلومات شیئر نہیں کر سکتا۔ لیکن تاریخی کامیابی کا یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔