نئی دہلی: چنندہ ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے ساتھ اپنا موقف واضح نہ کرنے پر کل برہمی کا اظہار کیا سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر 7500 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے مرکزی حکومت نے اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید دو ہفتے کا وقت مانگا تھا 7 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس پی آئی ایل پر اپنا جواب داخل نہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو آخری موقع دیا تھا جس میں ریاستی سطح پر اقلیتوں کی شناخت کرکے اعدادوشمار تیار کرنے کے لیے رہنما خطوط تیار کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے عرضی میں قومی کمیشن برائے اقلیتی ایکٹ 1992 کے جواز کو چیلنج کیا گیا ہے سپریم کورٹ نے گوہاٹی، میگھالیہ اور دہلی ہائی کورٹس میں چل رہے مقدمات کو بھی سپریم کورٹ میں منتقل کر دیا ہے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے ایکٹ 2004 کی دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے سالیسٹر جنرل نے کووڈ بحران کے وقت سپریم کورٹ سمیت دیگر اداروں پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگا تھا۔