چھ ماہ میں یوکرین کی انرجی تنصیبات پر 2900 روسی حملے

   

ماسکو ؍ کیف ۔ 19 اگست (ایجنسیز) یوکرین کی وزارت توانائی نے بتایا کہ گزشتہ شب یوکرین کے علاقہ پولٹاوا میں توانائی کی تنصیبات روسی حملے کا نشانہ بنیں، جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی۔ وزارت نے کہا کہ ایک گیس ٹرانسپورٹ کی تنصیب کو درجنوں ڈرونز کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا، جس سے نقصان پہنچا۔ وزارت نے ٹیلی گرام پر بتایا، روسی قابض افواج نے کروز میزائلوں اور اسٹرائیک ڈرونز کا ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے پولٹاوا کے علاقہ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر ایک اور بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی۔ وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ گیس کے بنیادی ڈھانچے کے علاوہ کن دیگر تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔ روس کی خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس نے رپورٹ کیا کہ وزارت دفاع نے ایک تیل صاف کرنے والے کارخانے پر حملہ کیا تھا، جو یوکرینی مسلح افواج کو ایندھن فراہم کر رہا تھا۔ یوکرین کی واحد آئل ریفائنری پولٹاوا کے علاقہ میں موجود ہے، جس پر ڈرونز اور میزائلوں دونوں سے بار بار حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ مقامی میڈیا اور کریمینچک کے میئر نے دھویں سے بھرے آسمان کے پس منظر میں شہر کے مختلف علاقوں کی ویڈیوز شائع کیں۔ کیف کے حکام نے یہ رپورٹ نہیں کیا ہے کہ آیا یہ آئل ریفائنری فعال ہے۔ وزارت نے منگل کو بتایا کہ روس نے جون میں دو بار یوکرین کے تیل صاف کرنے والے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا۔ روس نے جنگ کے پہلے دن سے ہی یوکرین کے تیل کے ڈپو اور ایندھن کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات پر بڑے حملے کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، یوکرین کی ایندھن کی ضروریات مکمل طور پر درآمدات سے پوری ہو رہی ہیں، خاص طور پر یورپی ممالک سے۔ یوکرینی وزارت نے کہا کہ صرف مارچ 2025 سے اب تک یوکرین کی توانائی کی تنصیبات پر 2,900 بار حملہ کیا گیا ہے۔ روس نے بارہا کہا ہے کہ وہ شہری بنیادی ڈھانچے پر حملہ نہیں کرتا۔