حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ایک 13 سالہ لڑکے کے خلاف جبری وصولی کا کیس ؟ حالانکہ اس پر یقین کرنا مشکل ہے ، لیکن یہ سچ ہے ۔ اس لڑکے نے بنجارہ ہلز میں اس کے ایک ہم جماعت لڑکے کو دھمکی دے کر اس سے ایک لاکھ روپئے وصول کئے ۔ پولیس کے مطابق اس لڑکے نے اس کے کلاس میٹ لڑکے کو انتباہ دیا کہ اگر وہ رقم نہیں دیا تو اس کے سنگین عواقب نتائج ہوں گے ۔ بنجارہ ہلز کے ڈیٹکٹیو انسپکٹر محمد حفیظ الدین نے کہا کہ یہ بات اس وقت معلوم ہوئی جب جبری وصولی کے شکار لڑکے کے والد نے دیکھا کہ ان کے گھر میں ایک سیف سے یہ رقم غائب تھی ۔ کچھ غلط ہونے کا شبہ کرتے ہوئے انہوں نے ان کے بیٹے سے سوال کیا کہ آخر کیا ہوا ہے ۔ تب لڑکے نے پوری بات بتائی ۔ دونوں لڑکے اسی اسکول کے کلاس VII کے طلباء ہیں ۔ مشکل اس وقت شروع ہوئی جب جبری وصولی کے شکار لڑکے نے اس کے دوست کو اتفاقی طور پر بتایا کہ اس کے گھر میں ایک سیف میں بہت رقم رکھی ہوئی ہے ۔ تب اس کے بعد اس 13 سالہ لڑکے نے اسے اس سے کتابیں اور دوسری چیزیں چھینتے ہوئے رقم کے لیے ہراساں کرنا شروع کیا اور اسے دھمکی دی اور ڈرایا کہ اگر وہ رقم نہیں لایا تو اسے مار پیٹ کرے گا ۔ اس سے خوفزدہ ہو کر اس لڑکے نے فیملی سیف سے رقم کی چوری کر کے چند دن قبل اس کے ہم جماعت لڑکے کو دیا تھا ۔ تین دن پہلے اس لڑکے کے والد نے محسوس کیا کہ ان کا بیٹا جبری وصولی کا شکار ہوا ہے کیوں کہ انہیں یہ رقم نہیں مل سکی ۔ اس لڑکے کے والد کی جانب سے اس سلسلہ میں ایک شکایت درج کروانے کے بعد پولیس نے ایک کیس درج کیا ۔ اس کی تحقیقات جاری ہیں ۔۔