چھ ضمانتوں پر عمل آوری پر پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو زیادہ نشستوں کو ثابت کرنے کا موقع
حیدرآباد۔6۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد منتخبہ چیف منسٹر اے ۔ریونت ریڈی کے لئے اس قدر آسان راہیں نہیں ہیں بلکہ انہیں کئی چیالنجس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اے ریونت ریڈی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے چیالنج کو قبول کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار دلوانے میں کامیابی حاصل کرلی اور چیف منسٹر بننے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اے ریونت ریڈی نے ایک پڑاؤ تو پار کرلیا اور اندرون پارٹی جاری مخالفتوں سے نمٹنے کے بعد بہ حیثیت چیف منسٹر 7 ڈسمبر کو 1 بجے دن حلف لینے کے لئے ریاست بھر کے عوام کو دعوت عام دے دی ہے۔ حلف برداری کے بعد بھی ریونت ریڈی کے چیالنجس ختم نہیں ہوں گے بلکہ ان کے چیالنجس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا کیونکہ اندرون 3ماہ لوک سبھا انتخابات کے لئے اعلامیہ متوقع ہے اور اس اعلامیہ کی اجرائی سے قبل حکومت تلنگانہ کو عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اگر ان تین ماہ کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہوگا اسی لئے ریونت ریڈی کو پارٹی اور اپنی ساکھ بچانے کے لئے تمام وعدوں کو پورا کرنا پڑے گا۔ تلنگانہ کے خزانہ کی صورتحال کے متعلق یہ بات واضح طور پر کہی جا رہی ہے کہ گذشتہ حکومت نے ریاست کو مقروض کردیا ہے اور اس قرض سے فوری طور پر نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کانگریس نے عوام کے لئے جو 6 ضمانتیں پیش کی ہیں ان پر عمل آوری کے اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران اے ریونت ریڈی اور کانگریس کے تمام سرکردہ قائدین نے اعلان کیا تھا کہ ریاست بھر میں ان 6 ضمانتوں پر ابتدائی 100دن میں عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد آئندہ بجٹ کی تیاری اور اس میں ان 6ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے بجٹ کی فراہمی بھی چیف منسٹر کے لئے بڑا چیالنج ہوگا کیونکہ ریاستی حکومت کی آمدنی میں بڑا حصہ برقی بلوں سے وصول ہونے والی رقومات سے ہے اور کانگریس نے عوام سے کئے گئے وعدہ میں 200 یونٹ مفت برقی کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ تلنگانہ میں پارلیمانی انتخابات کے دوران بی آر ایس کو سخت مقابلہ دینے کے لئے حکمت عملی کی تیاری بھی چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کی ذمہ داری ہوگی اور وہ اگر اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے ہوئے کانگریس کو زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیاب کرواتے ہوئے خود کو ثابت کرتے ہیں تو وہ بھی تلنگانہ میں ناقابل تسخیر سیاسی قائد کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ اے ریونت ریڈی کے چیالنجس سے بھر پور اس سیاسی سفر میں انہیں خود کو ثابت کرنے کے علاوہ پارٹی کو مستحکم بناتے ہوئے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے بھی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی اور بہتر حکمرانی کے ذریعہ ریاست کے عوام کا بھی دل جیتنا ان کی ہی ذمہ داری ہوگی۔