چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا مخالف تلنگانہ پارٹی وائی ایس آر کانگریس سے ساز باز

   

صدر ٹی آر ایس سے فوری وضاحت کرنے کا مطالبہ، ٹی جیون ریڈی کا بیان

حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) سینئر کانگریس قائد مسٹر ٹی جیون ریڈی نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر آگ بگولہ ہوکر تلنگانہ کی مخالفت کرنے والی پارٹی کے ساتھ خفیہ ساز باز کرکے بھرپور تعاون کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے نہ صرف علیحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد کی پرزور مخالفت کی تھی بلکہ تلنگانہ تشکیل دینے کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ کانگریس قائد نے کے چندرشیکھر راؤ سے استفسار کیاکہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ جگن موہن کی بھرپور تائید کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں فی الفور وضاحت کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا۔ آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر کانگریس قائد و سابق وزیر نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ہدف ملامت بنایا اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو تلنگانہ کے ساتھ دھوکہ کرنے والی پارٹی سے تعبیر کیا اور بتایا کہ تلنگانہ کے ساتھ دھوکہ و دغا بازی کرنے والے جگن موہن ریڈی کی کے سی آر زبردستی کی تائید کررہے ہیں۔ انھوں نے چیف منسٹر تلنگانہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ صرف دھوکہ بازوں کو ہی کے سی آر اپنی اولین ترجیح دے رہے ہیں اور دھوکہ باز قائدین کو ہی عہدے بھی فراہم کررہے ہیں۔ انھوں نے آندھراپردیش کے عام انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آندھراپردیش میں تلگودیشم اور کانگریس پارٹی کے مابین انتخابی مفاہمت ہوتی تو تلگودیشم کی کامیابی کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کرتا تھا لیکن آندھراپردیش میں منعقد ہونے والے اسمبلی و لوک سبھا انتخابات میں تلگودیشم اور کانگریس کے مابین کوئی مفاہمت نہ رہنے کی وجہ سے اب وہ کانگریس کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ قائد کانگریس پارٹی نے کے چندرشیکھر راؤ سے دریافت کیاکہ آیا تلنگانہ میں 16 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کریں گے تو مرکز میں 16 لوک سبھا نشستوں کے ذریعہ کس طرح چکر چلائیں گے۔ انھوں نے پرزور الفاظ میں کہاکہ ریاست کے عوام اگر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو ووٹ دیں گے تو وہ راست بی جے پی کو ووٹ دینے کے مترادف ہوگا۔