کانگریس کے خوف سے بائیں بازو سے اتحاد، جی او 317 کیلئے بی جے پی ذمہ دار: ریونت ریڈی
حیدرآباد۔10۔ جنوری (سیاست نیوز) صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت سرکاری ملازمین میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی او 317 پر عمل آوری کے دوران سینئر ملازمین کو ان کی مرضی کے مطابق الاٹمنٹ کرتے ہوئے حکومت کے حق میں تائید کیلئے راضی کیا گیا جبکہ جونیئر ملازمین کے من مانی تبادلے کئے گئے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ حکومت کا رویہ پھوٹ ڈالو حکومت کرو کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے اور کانگریس کی پیشقدمی کو روکنے کیلئے درپردہ مفاہمت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کریم نگر میں بنڈی سنجے کی گرفتاری پر سوال کیا اور کہا کہ بنڈی سنجے اپنے گھر میں جاگ کر احتجاج کرنا چاہتے تھے اور ان کے احتجاج سے آسمان پھٹنے والا نہیں تھا لیکن پولیس کے ذریعہ انہیں گرفتار کیا گیا تاکہ اس مسئلہ کو ہوا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جو مسئلہ 24 گھنٹے میں ختم ہوسکتا تھا ، اسے 10 دن تک طوالت دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنڈی سنجے نے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا کہ دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس اور بی جے پی کے قومی قائدین تلنگانہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی جی او 317 کے خلاف ہے تو مرکزی حکومت نے اسے منظوری کیوں دی ؟ مرکز نے جی او 317 کو صدر جمہوریہ کی منظوری دلائی اور اعلامیہ جاری کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جی او کی منظوری دینے والی بی جے پی حکومت کے سی آر کے جرم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے قبل مرکزی حکومت کو جی او 317 کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس جی او کے تحت تلنگانہ کے لاکھوں ملازمین کو نقصان ہوا ہے۔ بی جے پی ریاستوں کے ارکان پارلیمنٹ کو اس مسئلہ پر مرکزی وزیر امیت شاہ سے نمائندگی کرنی چاہئے ۔ مرکز کی جانب سے زونل سسٹم کی منظوری کے بعد ہی جی او جاری کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جی او 317 کے خلاف احتجاج کا عوام کے درمیان ڈھونگ کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں بی جے پی ملازمین کے ساتھ ناانصافی میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی بڑھتی مقبولیت سے بوکھلاکر دونوں پارٹیوں نے ملی بھگت کے ساتھ دکھاوے کی ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی تائید اور قومی سطح پر سیکولر جماعتوں سے بات چیت کے ذریعہ کے سی آر تلنگانہ میں کانگریس کوکمزورکرنا چاہتے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین کو طلب کرنا کانگریس سے خوف کا واضح طور پر اظہار ہے۔ ر