چیف منسٹر کا جذبۂ انسانی ، معذور شخص کوپنشن اور فلیٹ کی منظوری

,

   

ٹولی چوکی سے واپسی کے دوران کے سی آر نے بزرگ شخص کو دیکھ کر قافلہ روک دیا، کار سے اُتر کر مسائل کی سماعت

حیدرآباد 27 فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا جذبۂ انسانی کا مظاہرہ آج اُس وقت دیکھا گیا جب وہ ٹولی چوکی میں واقع آدتیہ انکلیو میں مقیم رکن پارلیمنٹ سنتوش کے گھر ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس ہورہے تھے کہ ٹولی چوکی سمتا کالونی کے قریب انھیں ایک بزرگ شخص نظر آئے۔ معذور بزرگ کی حالت زار کی تئیں انسانیت کا جذبہ دکھاتے ہوئے اُن کی فریاد سنی اور اُنھیں درپیش مسائل کو فوری حل کردیا۔ آج سہ پہر چیف منسٹر کے سی آر ٹولی چوکی سے واپس ہورہے تھے کہ انھیں راستہ میں اپنے ہاتھوں میں درخواست لئے ایک معذور بزرگ نظر آئے۔ جس پر چیف منسٹر نے اپنے قافلہ کو رکوایا اور کار سے اُتر گئے۔ قریب جاکر اُن معذور بزرگ سے اُن کے درپیش مسائل سے متعلق دریافت کیا۔ اِن بزرگ نے اپنا تعارف محمد سلیم کے طور پر کروایا جو قبل ازیں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرچکے تھے لیکن وہ گزشتہ 9 برس سے معذور اور علیل ہیں۔ 4 سال قبل وہ ایک عمارت سے گر گئے تھے جس کی بناء اُن کا پیر ٹوٹ گیا۔ اِن کے بیٹے کی صحت بھی ناساز ہے۔ اِن کے پاس رہنے کے لئے کوئی مکان نہیں ہے۔ اُنھوں نے چیف منسٹر سے مدد کی درخواست کی۔ جس پر کے سی آر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کلکٹر حیدرآباد شویتا موہنتی کو حکم دیا کہ وہ محمد سلیم کے لئے معذورین کو دیا جانے والا پنشن اور ڈبل بیڈ روم مکان منظور کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کریں۔ چیف منسٹر کے حکم پر کلکٹر نے ٹولی چوکی میں واقع محمد سلیم کی رہائش گاہ جاکر انکوائری کی۔ محمد سلیم کے اپنی معذوری کا صداقت نامہ موجود تھا اِس لئے کلکٹر نے بلاتاخیر وہیں پر اُنھیں معذورین کو دیا جانے والا وظیفہ منظور کردیا۔ علاوہ ازیں ضیاء گوڑہ میں اِن کے لئے ایک ڈبل بیڈ روم مکان بھی الاٹ کردیا۔ مزید برآں کلکٹر نے بزرگ شخص محمد سلیم کو تیقن دیا کہ وہ اُن کے علاج کے لئے جو بھی اخراجات ہوں گے انھیں حکومت برداشت کرے گی اور اِن کے بیٹے کے علاج کے لئے بھی چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے تحت مالی اعانت کی جائے گی۔ ایڈیشنل ڈی سی پی ویسٹ زون محمد اقبال صدیقی بھی اِس موقع پر موجود تھے جنھوں نے کلکٹر حیدرآباد شویتا موہنتی کو اپنے ساتھ محمد سلیم کے مکان لے گئے اور تمام تفصیلات حاصل کیں۔ جہاں کلکٹر نے برسر موقع کارروائی کی۔