بی آر ایس 80 نشستوں پر کامیاب ہوگی اور حکومت بنائے گی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس ورکنگ صدر و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر سیکولر قائد ہیں ۔ سر کٹانا پسند کرتے ہیں مگر کبھی مودی اور بی جے پی کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکا سکتے ۔ جب تک بی آر ایس حکومت میں ہے 4 فیصد مسلم تحفظات محفوظ ہیں ۔ بی جے پی مسلم تحفظات کو ہاتھ نہیں لگا سکتی اور نہ تاریخی شہر حیدرآباد کا نام تبدیل کرسکتی ہے ۔ کانگریس کے نقلی سیکولرازم اور بی جے پی کے ہندوتوا دونوں سے ملک کو خطرہ ہے ۔ تلنگانہ کے عوام کو کانگریس اور بی جے پی سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست میں بی آر ایس 80 نشستوں کے ساتھ تیسری بار کامیابی حاصل کرے گی ۔ کانگریس 9 مساجد کو منہدم کرنے کی منفی تشہیر کرکے کے سی آر اور بی آر ایس کو بدنام کررہی ہے جس میں سچائی نہیں ہے ۔ پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ بی آر ایس قائد شیخ عبداللہ سہیل و بی آر ایس حیدرآباد انچارج ڈی شراون بھی موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے بی آر ایس کے 9 سالہ اقتدار میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کی ترقی کیلئے مختص بجٹ و دیگر امور کا حوالہ دیا اور کہا کہ 9 سال میںتلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی اور بہبود پر 12,780 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہم نے اقلیتوں پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ فرض نبھایا ہے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ بی آر ایس کو اپنے سیکولرازم پر فخر ہے ۔ ہم کتنے سیکولر ہے اس کو بتانے ہمیں 4 ہزار کلو میٹر پدیاترا کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف چار قدم چلنا کافی ہے ۔ راہول گاندھی مسلمانوں کے ووٹوں کے ٹھیکیدار نہیں ہے ں۔ ہمیں بار بار بی جے پی کی ٹیم قرار دے رہے ہیں ۔ وزیراعظم مودی ہم پر کانگریس سے خفیہ اتحاد کا الزام عائد کررہے ہیں ۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں چیف منسٹرکے سی آر اور بی آر ایس سے خوفزدہ ہیں۔ کے سی آر کو قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے سے روکنے مودی اور راہول گاندھی سازش کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم تلنگانہ کے عوام بالخصوص اقلیتیں با شعور ہیں۔ بی آر ایس کو کامیاب بناکر دونوں کے خفیہ ایجنڈے کو ناکام بنادیں گے ۔ بی آر ایس کی تیسری مرتبہ حکومت تشکیل پانے کے بعد 17 ہزار ائمہ و موذنین کو دیا جانے والا ماہانہ اعزازیہ 5 ہزار سے بڑھاکر 10 ہزار روپئے کردیا جائے گا اور سارے ائمہ موذنین کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کئے جائیں گے ۔ مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے کانگریس ذمہ دار ہے ۔ 55 سال حکمرانی کے باوجود اقلیتوں کو ترقی دینے میں کانگریس ناکام ہوگئی ۔ آج مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے ۔ کانگریس کا اقلیتی ڈیکلریشن اقلیتوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔ مردم شماری کرکے مسلمانوں کو بی سی طبقات میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس سے اقلیتیں اپنی شناخت و اقلیتی موقف سے محروم ہوجائیں گی ۔ اقلیتی وزارت ، اقلیتی کمیشن اور دیگر اقلیتی ادارے ختم ہوجائیں گے ۔ دوسری جانب بی سی طبقات اقلیتوں سے ناراض ہوجائیں گے ۔ کانگریس مسلمانوں اور بی سی طبقات کو لڑانے جھگڑا کرنے کی سازش کررہی ہے ۔ آر ایس ایس قائد کو گاندھی بھون میں بٹھا دیا گیا جس سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے بی جے پی امیدواروں راجہ سنگھ ، بنڈی سنجے اور ڈی اروند کے خلاف کانگریس نے کمزور امیدواروں کو انتخابی مہم میں اتارا ہے اور بی آر ایس گوشہ محل ، کریم نگر اور کورٹلہ میں بھاری اکثریت سے کامیابی کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سارے مسلمان بی آر ایس کے ساتھ ہیں اور بی آر ایس مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔ شادی مبارک چیکس کی تاخیر سے اجرائی کے ٹی آر نے اس اسکیم کو گرین چینل میں شامل کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ ریاست میں 205 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے 3.48 لاکھ اقلیتی طلبہ کو اسکالر شپس دی گئی 2.46 لاکھ طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ ادا کی گئی 2005 طلبہ کو فی کس 20 لاکھ روپئے کی اوورسیز اسکالر شپ فراہم کی گئی 2250 اقلیتی لڑکیوں کی شادیوں پر 2,250 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ ن