چیف منسٹر کی مدبرانہ قیادت کی وجہ تلنگانہ ملک میں سرفہرست

   

سماج کے تمام طبقات کو ترقی ، سنگاریڈی میں یوم خواتین پروگرام ، صدر ضلع ٹی آرایس چنتا پربھاکر کا خطاب

سنگاریڈی : وزیر اعلی کے ۔ چندرا شیکھر رائو کی مدبرانہ قیادت میں ریاست تلنگانہ ترقی کی سمت گامزن ہے ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے بے شمار فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کو کامیابی کے سا تھ روبعمل لا تے ہوئے عوام کو راست فائدہ پہنچا یا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ریاست تلنگانہ ملک بھر میں سر فہرست ہے۔ان خیالات کا اظہار چنتا پر بھا کر سابق رکن اسمبلی و صدر ٹی آر ایس ضلع سنگاریڈی نے پی ایس آر گارڈن ‘ سنگاریڈی میں منعقدہ ’’ عالمی یوم خواتین ‘‘ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آرکی ہدایت پر ریاست کے ہر شہر ہر موضع میں عالمی یوم خواتین شاندا ر پیمانے پر منایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں سماج کے تمام تر طبقات کی ہمہ جہت ترقی کے اقدامات کو یقینی بنا یا جارہا ہے ۔ٹی آر ایس حکومت خواتین کو سیاسی طور پر 50 فیصد تحفظات فراہم کر رہی ہے ۔جس کی وجہ سے سنگاریڈی میں چیرمین ضلع پریشد ‘ چیرمین بلدیہ اور وائس چیرمین کے عہدوں پر خواتین کا رگزار ہیں اسی طرح سدا سیو پیٹ میں بھی ایک خاتون کو عہدہ چیرمین پر نامزد کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے ۔حکومت خواتین کو با اختیار و خود مکتفی بنانے تمام تر اقدامات کر رہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد کئی ایک فلاحی و ترقیاتی اسکیمات جیسے شا دی مبارک ‘ کلیا نہ لکشمی ‘ آسراء وظائف ‘ تنہا خواتین ‘ کے سی آر کٹ ‘ رعیتو بندھو ‘ رعیتو بیمہ‘ کسانوں کو مفت برقی سربراہی جیسی بے مثال اسکیمات کو روبعمل لا یا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ریاست تلنگانہ وہ واحد ریاست ہے جہاں پر طالبات کو بیرون ملک حصول اعلی تعلیم کیلئے اورسیز اسکالر شپ اسکیم کے ذریعہ 20 لاکھ روپئے امداد دی جا رہی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کے ۔ بچی ریڈی چیرمین سی ڈی سی ‘ بی وجئے لکشمی چیرمین بلدیہ ‘ لتا وجئیندر ریڈی ‘ سنیتا زیڈ پی ٹی سی ‘ سر لا ریڈی ‘ وینا سرینواس ‘ ڈاکٹر سری ہری ‘ شیخ رشید ‘ وجئیندر ریڈی نے بھی خطاب کیا ۔ بعد ازاں عالمی یوم خواتین کے موقع پر کیک کا ٹا گیا اور خواتین کو تہنیت پیش کی گئی ۔ اس موقع پر کونڈل ریڈی زیڈ پی ٹی سی‘ وینکیشورولو ‘ مادھوی ‘ حبیب رسول شکیل ‘ مسعو د بن عبداللہ بصراوی ‘یونس بیگ ‘ نرسمہلو کے علاوہ دیگر خواتین کی کثیر تعداد موجود تھے۔