چیف منسٹر کی کارکردگی بلیک میلر کی طرح ، خوف و ہراس کو فروغ دینے کی کوشش

   

حکومت کے ہتھکنڈوں کا جواب دینے اپوزیشن کے پاس موثر طریقے موجود ، ٹی ہریش راؤ کی میٹ دی پریس
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔7۔نومبر۔چیف منسٹر تلنگانہ بلیک میلر کی طرح کام کر رہے ہیں اور ریاست میں خوف و ہراس کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ تلنگانہ میں جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپوزیشن کو خوفزدہ کرنے کی حکومت ناکام کوشش کر رہی ہے جبکہ حکومت کے ان ہتھکنڈوں کا اپوزیشن بہتر مؤثر انداز میں جواب دے سکتی ہے۔ مسٹر ٹی ہریش راؤ نے ’میٹ دی پریس‘ سے خطاب کے دوران چیف منسٹر پر خوف کی سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بلیک میلر‘ کی طرح کام کر رہے ہیں۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ ’’قانون حق آگہی ‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے صنعت کاروں‘ رئیل اسٹیٹ تاجرین اور دیگر سرکردہ تجارتی اداروں کو آرٹی آئی کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بلیک میل کرنے کا طویل ریکارڈ موجود ہے اور اب چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد بھی مسٹر اے ریونت ریڈی خانگی کالجس کو اسی انداز میں بلیک میل کررہے ہیں۔انہو ںنے بتایاکہ حکومت کی جانب سے خانگی کالجس کو فیس باز ادائیگی و اسکالرشپ اسکیمات کے بقایا جات کی اجرائی کے علاوہ دواخانوں کو آروگیہ شری اسکیم کے بقایا جات کی اجرائی کے معاملہ میں کالجس اور دواخانوں کو بھی معمولی خلاف ورزیوں کی بنیاد پرہراساں کرنے کی پالیسی اختیار کی جار ہی ہے۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت ڈی اے کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین کو بھی دھمکیاں دے رہی ہے اور جوبلی ہلز میں بی آر ایس کیڈر کو خوفزدہ کرتے ہوئے انہیں کانگریس میں شامل ہونے کے لئے مجبور کیا جار ہاہے ‘ انہوں نے چیف منسٹر کی انتخابی مہم کے دوران کی گئی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر صرف ملازمین ‘ خانگی کالجس کے انتظامیہ یا دواخانوں اور بی آر ایس کیڈر کو دھمکی نہیں دے رہے ہیں بلکہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے رائے دہندوں کو بھی دھمکا یا جا رہاہے کہ اگر جوبلی ہلز میں عوام نے انہیں شکست سے دوچار کیا تو ایسی صورت میں فلاحی اسکیمات روک دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر جوبلی ہلز میں امکانی شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اچھی طرح سے احساس ہوچکا ہے کہ جوبلی ہلز کے عوام کانگریس کو اچھا سبق سکھانے کی تیاری کر چکے ہیں۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے سکندرآباد کنٹونمنٹ کے ضمنی انتخابات میں کانگریس کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ حلقہ اسمبلی میں ضمنی انتخابات سے قبل وعدہ کیاگیا تھا کہ 6000 ’اندراماں اندلو‘ اسکیم کے تحت مکانات دیئے جائیں گے علاوہ ازیں 23 کروڑ کی لاگت سے اسپورٹس کامپلکس کی تعمیر کو مکمل کرنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ کانگریس نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حلقہ اسمبلی سکندرآباد کنٹونمنٹ میں موجود محکمہ دفاع کی اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کرے گی لیکن کسی ایک وعدہ کو بھی پورا نہیں کیاگیا ۔سابق وزیر نے کہا کہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات کسی ایک حلقہ اسمبلی کے انتخابات نہیں ہیں بلکہ ان انتخابات کے نتائج تلنگانہ کے 4کروڑ عوام کا مستقبل طئے کریں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ بی آر ایس جس قدر مضبوط ہوگی اس قدر حکومت کو فلاحی اسکیمات اور معلنہ پروگرامس چلانے کے لئے مجبور کیا جائے گا۔انہو ںنے دعویٰ کیا کہ ریاست میں کسی بھی طبقہ یا شعبہ سے تعلق رکھنے والا فرد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور کانگریس کی آمرانہ حکومت سے خوش نہیں ہے۔انہو ں نے بی آ رایس کو کمزور کرنے کے لئے تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی بہار ‘ ہریانہ اور مہاراشٹرا میں ’’ووٹ چوری ‘‘ پر بات کر رہے ہیں لیکن تلنگانہ میں ہونے والی ووٹ چوری پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے مسٹر اے ریونت ریڈی کو ناکام وزیر داخلہ ‘ وزیر تعلیم ‘ وزیر بلدی نظم و نسق اور ناکام چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس شہر حیدرآباد میں بی آ ر ایس قائدین کے مکانات پر چھاپے مار رہی ہے اور بی آر ایس کی جانب سے دیئے جانے والی شکایات پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔انہو ںنے جوبلی ہلز کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے قبل کے چندر شیکھر راؤ کے 10 سالہ دور حکمرانی اور 2 سالہ خوف و ہراس کی حکومت کا تجزیہ کریں اور اپنے ووٹ کا ترقی اور خوشحالی کے لئے استعمال کرتے ہوئے بہتر امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔3