چیف منسٹر کے فارم ہاوز میں 150 ایکر پر دھان کی کاشت : ریونت ریڈی

   

کسانوں کو روکنا اور خود کاشت کرنا افسوسناک ، نئی دہلی کے وفد میں چیف منسٹر کے رشتہ دار شامل نہیں
حیدرآباد۔/26 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ربیع سیزن میں کسانوں سے دھان کی کاشت نہ کرنے کی اپیل کی لیکن ان کے فارم ہاوز میں 150 ایکر پر دھان کی کاشت کی جارہی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے آج چیف منسٹر کے فارم ہاوز میں دھان کی کاشت سے متعلق تصاویر میڈیا کیلئے جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو دھان کی فصل سے روکنے والے چیف منسٹر نے خود دھان کی کاشت کی ہے۔ کل 27 ڈسمبر کو 2 بجے دن وہ میڈیا کے نمائندوں کو ایراولی میں کے سی آر کے فارم ہاوز میں دھان کی کاشت کا معائنہ کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے ایک اصول اور اپنے لئے ایک اصول کیسے ہوسکتا ہے۔ مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی سے انکار کا بہانہ بناکر حکومت نے کسانوں کو دھان کی کاشت سے روک دیا ہے۔ اس سلسلہ میں عہدیداروں کی جانب سے مہم چلائی جارہی ہے تاہم انتہائی سیکوریٹی والے ایراولی فارم ہاوز میں خود چیف منسٹر نے دھان کے بیج بوئے ہیں۔ انہیں بھی چاہیئے تھا کہ وہ دھان کے بجائے کسی اور فصل کی کاشت کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو امدادی قیمت کی فراہمی میں ناکام حکومت نے بی جے پی کے ساتھ مل کر ڈرامہ بازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے جو اپنے وعدہ سے منحرف ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر دھان کی خریدی کیلئے اپنا فائدہ تلاش کررہے ہیں جبکہ انہیں کسانوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ریونت ریڈی نے چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کی طرح دھان کیلئے 2540 روپئے قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی وزراء ہریش راؤ اور کے ٹی آر کو چھتیس گڑھ کا دورہ کرتے ہوئے اسکیم کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں وزراء کو چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر سے ملاقات کرانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے آگے کے سی آر نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی میں دھان کے مسئلہ پر کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔ ریاستی وزراء ایک ہفتہ تک دہلی میں قیام کے باوجود خالی ہاتھ واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے وزراء کے وفد میں کے ٹی آر اور کے سی آر کی عدم شمولیت پر تنقید کی اور کہا کہ چیف منسٹر کے کسی بھی رشتہ دار نے کسانوں کیلئے دہلی جانے کی زحمت نہیں کی۔ ر