کانگریس مقننہ پارٹی کا اجلاس ، مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے کا سونیا گاندھی کو اختیار ، قرار داد منظور
چندی گڑھ:کئی مہینوں سے جاری تگ و دو کے بعد آج پنجاب کے چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنا استعفیٰ گورنر بنواری لال پروہت کو سونپ دیا۔ آج صبح سے پنجاب میں جس طرح کی سیاسی سرگرمیاں چل رہی تھیں، اس سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کیپٹن امریندر جلد ہی استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ آج شام 5 بجے کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ شروع ہوئی، لیکن اس سے پہلے ہی امریندر سنگھ نے راج بھون پہنچ کر گورنر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔استعفیٰ دینے کے بعد کیپٹن امریندر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے صبح کانگریس صدر سے بات کی تھی اور انھیں بتا دیا تھا کہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘ پنجاب کا اگلاچیف منسٹرکون ہوگا، اس سلسلے میں سوال پوچھے جانے پر انھوں نے کہا کہ ’’میں نے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھیں (کانگریس صدر کو) جس پر اعتماد ہے اسے چیف منسٹر بنائیں۔‘‘کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے حامی اراکین اسمبلی کے ساتھ چنڈی گڑھ میں اپنی رہائش گاہ پر اجلاس منعقد کیا۔ جس کے بعد ہی وہ اپنا استعفیٰ گورنر کو سونپنے کے لیے راج بھون پہنچے تھے۔ گورنر نے ان کا استعفیٰ قبول کرلیا اور کہا کہ متبادل انتظامات تک وہ عہدہ پر برقرار رہیں ۔ اسی دوران کانگریس مقننہ پارٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک قرار داد منظور کی گئی اور پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے کا سونیا گاندھی کو اختیار دیا گیا ۔ مقننہ پارٹی اجلاس میں نئے قائد سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ ہائی کمان کو اس بات کا اختیار دیا گیا کہ تمام مقننہ پارٹی ارکان کے لیے قابل قبول فیصلہ کرے ۔ذرائع کے مطابق سنیل جھاکر پنجاب کے اگلے چیف منسٹر ہوسکتے ہیں ۔ استعفیٰ دینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو پنجاب کو برباد کردیں گے ۔ وہ مکمل تباہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سدھو ایک وزارت نہیں سنبھاسکتے وہ پورے پنجاب کو کس طرح سنبھالیں گے ۔