چین اور روس کے مشترکہ جوہری منصوبے پر عمل آوری کا آغاز

   

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے چین میں روسی ساختہ ایٹمی بجلی گھروں پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اپنے ممالک کے مابین قریبی تعلقات پر خیالات کا اظہار کیا۔غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق چین میں تیانوان اور زوداباؤ جوہری بجلی گھروں کے نئے یونٹوں پر کام شروع ہوگیا ہے۔روس کے ساتھ مشترکہ طور پر تعمیر کیا گیا ، تیانوان پلانٹ 2007 سے کام کر رہا ہے جبکہ زوداباؤ اسٹیشن ابھی زیر تعمیر ہے۔کریملن نے پیوتن کے حوالے سے کہا ، ‘‘روسی اور چینی ماہرین واقعی ایک اہم فلیگ شپ مشترکہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں‘‘۔جوہری ری ایکٹرز کو’’طاقتور‘‘ اور ’’جدید‘‘ قرار دیتے ہوئے روسی رہنما نے کہا کہ وہ حفاظت کے تمام تقاضوں اور ماحولیاتی اعلی ترین معیار کو مدِنظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے یونٹ 2026-2068 تک کام کریں گے اور روس اور چین مشترکہ تعمیر کے ذریعے جوہری بجلی گھروں کو مزید ترقی دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے کہا ، ‘‘ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روسی چین تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔چین کی وزارت خارجہ کے ذریعہ شائع ہونے والے اس پروگرام کے ایک اعلامیے کے مطابق چینی صدر ڑی چن پنگ نے بھی اپنی تقریر میں ایٹمی توانائی کو دونوں ممالک کے مابین تعاون کی حکمت عملی کو اول ترجیح قرار دیا۔