واشنگٹن ۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی قانون سازوں نے چہارشنبہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ چین میں ایغور اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہنے کی طرف دلاتے ہوئے چین پر تحدیدات عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ اپنی سالانہ رپورٹ میں کانگریشنل ایگزیکیٹیو کمیشن برائے چین نے ژنجیانگ صوبہ میں ایغور اقلیتوں اور دیگر مسلمانوں پر چین کے روا رکھے گئے غیرانسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جن کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ 10 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ کمیشن کا یہ استدلال ہیکہ چین ایغور اور دیگر ترک نژاد مسلمانوں کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کا مرتکب ہورہا ہے۔ کمیشن کے ایک رکن کریس اسمتھ نے اس موقع پر ان گواہوں کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا تھا کہ انہیں ان کے عقیدہ اسلام کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس کے دوران مسٹرا سمتھ نے کہا کہ ہم بڑے پیمانے پر انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کا تذکرہ کررہے ہیں لہٰذا ٹرمپ انتظامیہ کو اس جانب توجہ دیتے ہوئے چین پر تحدیدات عائد کرنا چاہئے۔
یوکرینی طیارہ نے مدد کیلئے
کوئی کال نہیں کی : رپورٹ
تہران ۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) یوکرینی طیارہ کے حادثہ کے بعد ایران کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میںکہا گیا ہیکہ طیارہ نے مدد کیلئے کوئی کال نہیںکی تھی اور جس وقت حادثہ رونما ہوا اس وقت طیارہ کو واپس ایرپورٹ لانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ ا س رپورٹ کو جمعرات کے روز جاری کیا گیا۔ یاد رہیکہ طیارہ میں سوار تمام 176 مسافرین بشمول عملہ حادثہ میں ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت ایرانی اور کینیڈین شہریوں کی تھی۔