چین پر کورونا وائرس کی معلومات پوشیدہ رکھنے امریکہ کا پھرالزام

,

   

واشنگٹن 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے چین پر پھر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کو مسلسل اندھیرے میں رکھا اور اُس سے متعلق معلومات کو چھپایا ہے۔ اِس وباء کی وجہ سے 78 ہزار سے زیادہ امریکی فوت ہوچکے ہیں جبکہ 13 لاکھ سے زیادہ افراد مثبت پائے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس بات کے شواہد ہیں جس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ چین کے شہر اوہان کی لیباریٹری سے یہ وائرس پھیلا ہے۔ کل ایک انٹرویو کے دوران مائیک پامپیو نے کہاکہ اِس وباء کے باعث امریکی معیشت اور دنیا کی اقتصادیات ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تقریباً 120 دن سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن اب بھی چین کی کمیونسٹ پارٹی اس سے متعلق معلومات کو چھپارہی ہے۔ چین نے اِس سے متعلق دنیا اور سائنسدانوں کو تاریکی میں رکھا ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اِس سلسلہ میں تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پامپیو نے اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اِس بحران کا شکار ہیں۔ دنیا کو ابھی اِس بات کا پتہ نہیں ہے کہ یہ وائرس کہاں سے پھیلا ہے۔ صرف اتنا کہا جارہا ہے کہ یہ وباء اوہان سے نکلی ہے۔ چین مسلسل کورونا وائرس کی وباء اُس کے شہر سے پھیلنے سے انکار کررہا ہے۔ چین کا الزام ہے کہ امریکہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اُس پر یہ الزام عائد کررہا ہے۔ چین دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی وباء سے شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاع ملی تھی اور اُس نے عالمی صحت تنظیم کو اِس کی اطلاع دی۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چین کے شہر اوہان سے کورونا وائرس پھیلا ہے۔