واشنگٹن ۔ 30 جنوری (ایجنسیز)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ کا چین کے ساتھ معاشی روابط بڑھانا ’’خطرناک‘‘ ہو سکتا ہے۔ لندن حکومت چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو ازسر نو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے۔ روسی صدر دفتر کریملن نے جمعہ کے روز کہا کہامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ذاتی طور پر درخواست کی ہے کہ وہ یکم فروری تک کییف پر حملے روک دیں تاکہ امن مذاکرات کیلئے ایک سازگار ماحول بنایا جا سکے۔امریکی صدر کی اس درخواست پر جب ایک صحافی نے ماسکو کے ردعمل کے بارے میں دریافت کیا تو روسی صدر دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کوئی خاص تفصیلات دینے سے گریز کیا۔ادھر یوکرین نے کہا ہے کہ اگر روس بالخصوص موسم سرما میں یوکرینی توانائی کے ڈھانچوں پر حملے روک دے تو وہ بھی جوابی حملوں سے باز رہے گا۔ روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان اگلا سہ فریقی امن مذاکراتی دور اتوار کو ابوظہبی میں ہونا طے تھا۔ مگر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو کہا کہ مذاکرات کی تاریخ یا مقام تبدیل ہو سکتا ہے۔صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ اتفاق کیے گئے اقدام پر عمل کریں گے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ ’فون کال ضائع مت کریں، آپ کو کچھ نہیں ملے گا‘ لیکن ٹرمپ کے مطابق پوٹن نے مثبت جواب دیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ بات چیت کب ہوئی اور یہ ممکنہ جنگ بندی کب سے نافذ ہونا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے۔ امریکی دھمکی کے بعد ایران نے کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی اڈوں اور بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور فوجی آپریشن سے گریز کا امکان موجود ہے۔ واضح رہے کہ انہوں نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری معاہدے پر بات چیت کیلئے وقت کم رہ گیا ہے۔دوسری طرف ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس کا ردعمل فوری اور بھرپور ہو گا۔ ایرانی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں موجود امریکی اڈے اور ایئرکرافٹ ان کے میزائلوں کی رینج میں ہیں۔خلیجی ممالک میں موجود حکام نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی ممکنہ امریکی حملے سے پورا خطہ شدید افراتفری اور معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں ہوش ربا حد تک بڑھ سکتی ہیں۔اسی دوران قطر کے امیر اور ایران کے صدر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں پر بات چیت کی ہے۔
یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف دباؤ بڑھاتے ہوئے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے حالیہ مظاہروں پر خونریز کریک ڈاؤن کے بعد ضروری تھا، جس میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران نے یورپی فیصلے کو اشتعال انگیز اور غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔